ہم جو کہتے رہے وہ ہم نے کر دکھایا، (ر) میجر جنرل طارق رشید
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
دفاعی تجزیہ کار (ر) میجر جنرل طارق رشید خان نے کہا جنگ تو ختم بالکل آپ کہہ سکتے ہیں کہ نہیں ہوئی کیونکہ انڈیا نے جو کرنا تھا اور جیسے وہ کہہ رہا تھا کہ ہم پاکستان پر اور دہشت گردوں پر حملہ کریں گے وہ تو انھوں نے کر دیا، جو بھڑکیں ماری تھیں جو وہ کہتے رہے وہ نہیں کر سکے، ہم جو کہتے رہے وہ ہم نے کر دکھایا بلکہ اس سے زیادہ دکھا دیا.
ایکسپریس نیوز کے پروگرام کل تک میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی پوزیشن یہ ہے کہ پولیٹیکلی، سائیکلوجیکلی اور موریلی اور مورال پوائنٹ آف ویو سے پوری قوم کا مورال ایک ہائپ پر چلا گیا ہے اور اسی طرح انڈیا کاآپ دیکھیں کاریسپونڈنگلی اتنا زیادہ لوئر ہوا ہے اور انڈیا آئی سولیٹ ہوا ہے اور وہ اب کہہ رہے ہیں کہ انڈیا کبھی بھی اتنا کمزور اور آئی سولیٹ دنیا کے سامنے نہیں تھا جتنا آج ہو گیا ہے تو مودی پر بڑا پریشر ہے.
دفاعی تجزیہ کار (ر) بریگیڈیئر وقار حسن نے کہا کہ میرا اپنا ایک اوپینئن ہے کہ ہم حالت جنگ میں ہیں، اب یہ نہیں ہے کہ جنگ میں دھکیل رہا ہے یا جنگ شروع ہونے والی ہے، ہم حالت جنگ میں ہیں اس کی ہیت کیا ہو گی یہ آپ کو سمجھ آ جائے گی، دوسرا تھرڈ نیوکلیئر ایج میں ہم آ گئے ہیں، بڑی ریسرچ ہوئی اور اس میں ایڈ کیا گیا کہ اگر جوہری ہتھیار کسی پاگل شخص کے پاس آئے گا جیسے مودی ہے تو یہ انتہائی خطرناک ہو گا.
سابق نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑکا کہنا ہے کہ پاکستان کے اندر کیمپس ہیں ہمارے جوپہاڑی سلسلے ہیں کے اندر بھی ہیں، اگر مجھے پتہ ہے تو ظاہر ہے کہ اسٹیٹ کو بھی پتہ ہے ایسا نہیں ہے کہ نہیں پتہ، بہت ساری ایسی جو آپریشنل ڈیٹیلز ہوتی ہیں جو چیلنجز ہوتی ہیں اس پر بعض اوقات پبلک ڈومین میں بہت ڈیٹیل گفتگو نہیں ہوتی ہے لیکن یہ ایک ایسی چیز ہے کہ ساری اسٹیٹ آپریٹس کو ادراک ہے، اس بارے میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ یہ انڈین فنڈڈ ہیں، ہمارے پاس پوری انٹیلی جنس پکچر موجود ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔