آپ کیوں ضرورت سے زیادہ دفاعی ہو گئے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی 2025ء ) سینئر صحافی نے حکومت سے سوال کیا ہے کہ آپ کیوں ضرورت سے زیادہ دفاعی ہو گئے ہیں؟ ۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کی جانب سے بھارت کیخلاف مزید کسی کارروائی نہ کرنے کا عندیہ دیے جانے پر سینئر صحافی حامد میر کی جانب سے ردعمل دیا گیا ہے۔ سینئر صحافی نے کہا کہ آپ کا دشمن کسی انٹرنیشنل پریشر کو نہیں مانتا ، کسی انٹرنیشنل بارڈر کو نہیں مانتا ،کسی انٹرنیشنل قانون کو نہیں مانتا۔
کسی ثالثی کو نہیں مانتا ۔ اس نے آپ کا پانی بند کر دیا، آپ کے ملک پر میزائل برسا دئیے صرف اس بنیاد پر کہ اسرائیل اس کے ساتھ ہے؟ تو آپ کیوں ضرورت سے زیادہ دفاعی ہو گئے ہیں؟ آپ کیوں کسی ملک کا پریشر لے رہے ہیں۔؟ جبکہ اس حوالے سے تحریک انصاف کا بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔(جاری ہے)
تحریک انصاف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے چُن چُن کر پاکستان کے شہروں اور مساجد کو نشانہ بنایا، درجنوں شہری شہید کئے۔
مگر افسوس کہ رانا ثناء نے ان شہادتوں کا بدلہ نہ لینے کا اعلان کرکے کمزوری اور بزدلی کا مظاہرہ کیا۔ شریف خاندان نے مودی کا نام تک نہ لیا۔ آج پاکستان ایسی کمزور قیادت کے ہاتھوں یرغمال ہے، جو ذاتی مفاد کیخاطر قومی غیرت اور سالمیت کو قربان کر رہی ہے۔ ملک کو عمران خان جیسے دلیر اور بے باک لیڈر کی ضرورت ہے، جو قوم کی آواز بن سکے۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کی جانب سے پاکستان اور بھارت کی موجودہ کشیدہ صورتحال سے متعلق اہم ترین بیان جاری کیا گیا ہے۔ رانا ثناء اللہ نے بڑا پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کو بتا دیا بھارت مزید کچھ نہیں کرے گا تو ہم بھی کچھ نہیں کریں گے۔ بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم کے مشیر نے بھارت کو مزید جواب دینے کے سوالات پر کہا کہ بھارت کو جواب دیا جا چکا ہے، بھارت نے حملہ کیا، ہم نے وعدے کے مطابق بھرپور جواب دے دیا، بھارت مزید کچھ نہیں کرے گا تو ہم نے دنیا کو بتا دیا ہے ہم بھی کچھ نہیں کریں گے۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بھارت نے پہل کی تھی، ہم نے نہیں کی تھی، ہم نے بھارت کو جواب دیا، بھارت اب کچھ نہیں کرے گا تو ہم بھی بطور ذمہ دار ریاست کچھ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دنیا کو ایک بار پھر بتا دیا ہے کہ پہلگام واقعے پر تحقیقات کے لیے تیار ہیں، ہم دنیا کے کسی بھی فورم پر اپنے آپ کو پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کو نہیں مانتا کی جانب سے کچھ نہیں آپ کیوں کہا کہ
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر