جنرل عاصم کا دورہ ائیر ہیڈ کوارٹرز، بھارتی جارحیت ناکام بنانے پر شاہینوں کو خراج تحسین، ائیر چیف نے استقبال کیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
راولپنڈی (اپنے سٹاف رپورٹر سے) چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر نے ائیر ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا۔ ائیر ہیڈکوارٹرز پہنچنے پر چیف آف ائیر سٹاف ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔ آرمی چیف نے چیف آف ائیر سٹاف اور ائیر فورس کے شاہینوں کو بھارتی ائیر فورس کی طرف سے کی جانے والی جارحیت کے مذموم منصوبے کو فوراً ناکام بنانے پر خراج تحسین پیش کیا۔ ترجمان آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے پاکستان ائیر فورس کو ایک بار پھر دشمن کے متعدد جہاز مار گرانے اور اپنا لوہا منوانے پر بے حد سراہا۔ آرمی چیف نے تینوں سروسز کے مابین بہترین تعاون کو بھی سراہا۔ ملاقات کے دوران اس عزم کو دہرایا گیا کہ کسی کو بھی پاکستان کی جغرافیائی سالمیت کی خلاف ورزی نہیں کرنے دی جائے گی اور جو بھی اس کی کوشش کرے گا اس کی قیمت ادا کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
اسلام آباد:ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔