جنگ کے لیے تیار ہیں، مگر بھارتی شہریوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے، وزیردفاع خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ہم چاہتے تو آبادی کو ہدف بناسکتے تھے لیکن ہم نے صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، ہم بھارت میں شہریوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری مغربی سرحدوں پر بھارت کی پراکسیز بیٹھی ہیں، پاکستان بڑے پییمانے پر دہشتگردی کا شکار رہا ہے، بھارت کا کبھی نیپال، کبھی سری لنکا تو کبھی بنگلہ دیش کے ساتھ جھگڑا رہتا ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ بھارت نے آج دن میں بھی کچھ شہروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، پاکستان کو بھارت کا ادھار چکا دینا چاہیے، اس سلسلے میں ہم خود بھی کوئی ابتدا کرسکتے ہیں، بھارت کو جواب دینے کا ہمارے پاس جواز بھی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کو نشانہ
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔