پاکستان کے ساتھ لڑائی میں بھارت کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑا، نیویارک ٹائمز
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
امریکی اخبار نیویار ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ پیر اور منگل کی درمیانی شب پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی لڑائی میں بھارت کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑا اور اس کے فائٹر جیٹس تباہ ہوگئے۔
حال ہی میں شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں نیویارک ٹائمز نے کہا ہے کہ پاکستان کی جوابی شیلنگ سے مقبوضہ کشمیر میں 10 کے قریب ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں جبکہ پاک فضائیہ نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے انڈیا کے لڑاکا طیاروں کو بھی نقصان پہنچا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بھارت کے پاکستان پر میزائل حملے، کب کیا ہوا؟
نیویارک ٹائمز کے مطابق بھارتی طیارے انڈین پنجاب اور مقبوضہ جموں کشمیر میں گر کر تباہ ہوگئے جس کی عینی شاہدین نے تصدیق کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہتھیاروں پر ریسرچ کرنے والے ماہر ٹریوور بال نے تباہ شدہ طیارے کے ملبے کی تصویریں دیکھ کر تصدیق کی ہے کہ یہ کسی طیارے کا بیرونی ٹینک ہے اور طیارہ ممکنہ طور پر رافیل یا میراج ہوسکتا ہے جو بھارتی فضائیہ کا حصہ ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سینیئر سیکیورٹی ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ منگل کی رات انڈیا کے ساتھ پاکستان کی ہونے والی فضائی لڑائی جدید عسکری تاریخ میں لڑاکا طیاروں کی سب سے طویل ‘ڈاگ فائٹ’ تھی۔
یہ بھی پڑھیے: پہلگام واقعہ: بھارتی الزامات اور رویے کیخلاف قومی اسمبلی میں قرارداد جمع
ذرائع کے مطابق رات کی تاریکی میں ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس فضائی لڑائی میں دونوں جانب سے 125 لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا جو اسے عسکری تاریخ کی طویل ترین ‘ڈاگ فائٹ’ بناتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔