اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینئرتجزیہ کار حامد میر نے پاکستان کیخلاف ڈرونز کے ذریعے بھارتی جارحیت کی اہم وجہ بتا دی۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار حامد میر نے ڈرونز کے ذریعے بھارتی جارحیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ انڈیا کا مورال بہت ڈاؤن ہے، انڈیا نے اب ایک نئی وار گیم شروع کی ہے،اب اگروہ جہاز بھیجیں گے تو ان کو خطرہ ہے کہ پاکستان ان جہازوں کو تباہ کردے گا،تو وہ بڑی تعداد میں اسرائیلی ڈرونز بھیج رہےہیں،حامد میر کاکہناتھا کہ اس وقت ہمیں یہ چیز ذہن میں رکھنی چاہئے،اب ہماری لڑائی صرف انڈیا کے ساتھ نہیں ہے،بلکہ انڈیا اور اسرائیل نے مشترکہ جنگ پاکستان کیخلاف شروع کردی ہے،ان کاکہناتھا کہ جو میرے پاس انفارمیشن ہے،پاکستان کے مختلف شہروں اور بارڈر ایریاز سے جو انفارمیشن جمع کی ہے اس کے مطابق 30کے قریب ابتک میڈان اسرائیل ڈرونز جو انڈیا نے پاکستان کی جانب بھیجے تھے،پاکستان کا ایئر ڈیفنس سسٹم تباہ کرچکا ہے،اس کا صاف مطلب ہے کہ کل ان کا بہت نقصان ہوا ہے،مودی کا نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوگل مختلف کیپٹلز میں کال کرتا رہا ہے ہم نے ایسکلیشن نہیں کرنی،ان کا فارن سیکرٹری وکرم مصری نے یہی کہا کہی کہ ہم نے ایسکلیشن نہیں کرنی،آج صبح سے ان کی طرف سے جوڈرونز آ رہےہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے قول و فعل میں تضاد ہے۔انہوں نے دنیا کے سامنے جو دعوے کئے ان کو خود ہی غلط ثابت کررہےہیں۔

بھارتی غرور خاک میں ملانے پرپاکستانی عوام کا مسلح افواج کو خراج تحسین، ریلیاں نکالیں

سینئر تجزیہ کار کاکہناتھا کہ یہ ایک طرح ہمارے ایئر ڈیفنس سسٹم کو بھی چیک کررہے ہیں،ان کی پوری کوشش ہے کہ وہ بڑی تعداد میں ڈروزنز پاکستان بھیجیں ،اس کا مطلب ہے کہ خوف و ہراس پھیلایا جائے،کل پاکستان ایئرفورس، آرمی اور دیگر فورسز کی مشترکہ کاوش کے نتیجے میں ہندوستان کو غرور جو خاک میں ملا ہے،تو اس سے جو پاکستانی قوم کا حوصلہ بلند ہوا ہے،اس حوصلے کو توڑنے کیلئے ڈرونز وار شروع کی ہے،ان  کا مقصد ہے کہ عوام کو اکسایا جائے کہ انڈیا ڈرون پر ڈرون بھیج  رہا ہے ہم کیا کررہے ہیں،ہم نے 30سے زیادہ ان کے ڈرونز گرا دیئےہیں،وزیراعظم شہبازشریف، ڈی جی آئی ایس پی آر اور نیشنل سکیورٹی اجلاس کے بعد اعلامیہ میں بھی واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ہم اپنا رسپانس مناسب وقت پراپنی مرضی سے دیں گے،ان کی طرف سے جو ڈرونز آ رہےہیں ان کا مقابلہ تو ایئر ڈیفنس سسٹم کررہا ہے،لیکن جب ہم مناسب سمجھیں گے ہماری طرف سے بھی جواب ضرور آئے گا، ڈرونز بھیجنے کا مطلب ہے کہ انڈیا کا بہت بڑا نقصان ہوا ہے وہ اس نقصان کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہے،اس کا مطلب ہے کہ انڈیاجہازوں کے ذریعے پاکستان کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں۔

بھارت کو جن رافیل طیاروں پر غرور تھا انہیں زمین بوس کر دیا، ہمیں اپنی افواج پر فخر ہے:راجہ پرویز اشرف

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: پاکستان کی مطلب ہے کہ کہ انڈیا کا مطلب

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟