کراچی، خواجہ سراؤں کا بھارت مخالف احتجاج، پاک افواج کی مکمل حمایت کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
احتجاجی مظاہرے سے خطاب میں بندیا رانا نے کہا کہ بھارتی فوج پاکستان میں داخل ہوئی تو سب سے پہلے خواجہ سرا انہیں ماریں گے، یہ سال 2025ء کا پاکستان ہے، لہٰذا مودی کو اسے ہلکا نہیں لینا چاہیے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد کی خواجہ سرا برادری نے بھارت کے خلاف کراچی پریس کلب پر مظاہرہ کیا اور مودی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ خواجہ سرا کمیونٹی نے بندیا رانا کی قیادت میں مسلح افواج کی مکمل حمایت اور اظہار یکجہتی کیا۔ خواجہ سراؤں نے قومی پرچم اٹھا رکھا تھا، انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ وطن عزیز کی سلامتی کیلئے پاک فوج کے ساتھ ہیں۔ اس موقع پر خواجہ سرا بندیا رانا نے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو منہ توڑ جواب پر پاکستانی افواج کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، بھارت کا مودی صرف ڈرون حملوں پر اتر آیا ہے، بھارتی فوج سرحد پار کرنے کی ہمت تو دکھائے، پاکستانی قوم بھارت کی جنگی گیڈر بھپکیوں پر تفریح کر رہی ہے، ہم ڈرون حملوں سے خوفزدہ ہونے والی قوم نہیں ہیں، جہاں پاکستان کے مرد، جوان کھڑے وہیں خواجہ سرا ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
بندیا رانا نے کہا کہ پاکستان نے اب تک بھارت کے کسی عوامی مرکز کو نشانہ نہیں بنایا، بھارت پاکستان کی مساجد اور آبادیوں کو نشانہ بنا رہا ہے، مودی اپنی انتخابی مہم کو کامیاب بنانے کیلئے جنگی ماحول بنا رہا ہے، مودی گیدڑ تم پاکستان میں آؤ تو سب سے پہلے خواجہ سرا تمہیں تفریح کرائیں گے، بھارتی فوج پاکستان میں داخل ہوئی تو سب سے پہلے خواجہ سرا انہیں ماریں گے، یہ سال 2025ء کا پاکستان ہے لہٰذا مودی کو اسے ہلکا نہیں لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کے پاس وسیع پیمانے پر لائسنس یافتہ اسلحہ موجود ہے، اس اسلحے کو بھی زنگ لگ رہا ہے، جسے عوام بھارت کے خلاف استعمال کرنے کیلئے تیار ہے، بھارت نے اگر ہمارا پانی بند کیا تو ہم اس کی سانسیں بند کر دیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بندیا رانا خواجہ سرا کہا کہ
پڑھیں:
جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔
بی جے پی حکومت پر سنگین الزاماتمنگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔
میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائیسابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔
امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواستممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘ نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔
ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
مجھے سب کچھ معلوم ہےاپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔
نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔
مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار