وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ انڈیا نے بدھ کے روز دو تین بار کچھ شہروں کو ٹارگٹ کرنے کی کوشش کی اور ابھی بھی خطرہ ہے کہ انڈیا حملہ کرے گا۔  نجی ٹی وی سے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف نے کہا کہ دو ہفتے قبل جو مسئلہ شروع ہوا، اس کا ابھی اختتام نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا کہ اگر انڈیا بغیر کسی وجہ اور ثبوت کے کارروائی کر سکتا ہے تو ہم بھی جواب دیں گے۔ پاکستان کو ادھار چکانا چاہیے۔پاکستان کے وزیر دفاع نے یہ بھی کہا اگر ہم اب انڈیا کو کوئی جواب دیں گے تو ہمارے پاس اس کے لیے معقول جواز بھی ہے لیکن ہم انڈیا میں شہریوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارت کے ساتھ مکمل جنگ کا خدشہ ظاہر کردیا۔امریکی نیوز چینل کو انٹرویو میں خواجہ آصف دوٹوک پیغام دیا کہ پاکستان کشیدگی بڑھانا نہیں چاہتا، لیکن بھارت صورتحال مزید سنگین بنائے جارہا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان ایک مکمل جنگ کے لیے بھرپور طریقے سے تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ پاک بھارت تنازع ایک مکمل جنگ کی شکل اختیار کرسکتا ہے، بھارت نے بین الاقوامی سرحدی خلاف ورزی کرکے صورتحال مزید سنگین بنائی اور دہلی سرکار مسلسل کشیدگی بڑھارہی ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم ایک مکمل جنگ کے لیے بھرپور طریقے سے تیار ہیں، ہم کشیدگی بڑھانا نہیں چاہتے لیکن بھارت مسلسل ایسے اقدامات کر رہا ہے، جن سے تنازعات میں اضافہ ہو۔ خواجہ آصف نے کہا کہ انڈیا نے دو تین مرتبہ کچھ شہروں کو ٹارگٹ کرنے کی کوشش کی، کم از کم ریڈار کے اوپر تاکہ جب ضرورت پڑے تو ان شہروں کو نشانہ بنایا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ایک مکمل جنگ خواجہ آصف نے وزیر دفاع نے کہا کہ

پڑھیں:

ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام

واشنگٹن:

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

https://t.co/Wtbk84dEsc

— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026

سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟