’65 میں بھی انڈیا کو شکست دی تھی، جنگ میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے‘
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت سے تعلق رکھنے والے 82 سالہ ریٹائرڈ فوجی سید بادشاہ نے انڈیا کی جانب سے پاکستان میں شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی خبروں کے بعد سرحدوں پر جانے کی تیاری شروع کردی ہے، اور ان کی خواہش ہے کہ انہیں بھارت کے ساتھ لڑائی میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں کب، کیسے اور کہاں، مسلح افواج کو جواب دینے کا مکمل اختیار مل گیا
سید بادشاہ بتاتے ہیں کہ ان کی پاک فوج میں سروس کو چند سال ہی ہوئے تھے کہ 65 کی جنگ شروع ہوئی، اور انہیں اپنے وطن کے لیے لڑنے کا موقع ملا۔ سید بادشاہ جو 65 کے غازی ہیں، فوج سے مدتِ ملازمت مکمل کرنے کے بعد پشاور کے اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں بک شاپ چلا رہے ہیں، اور کم نرخ لگانے کی وجہ سے کالج میں ’ارزاں چاچا‘ یعنی سستے داموں والا چاچا کے نام سے مشہور ہیں۔
سن 65 میں انڈیا کو بدترین شکست دی تھیسید بادشاہ ماضی کو یاد کرکے بتاتے ہیں کہ اس وقت وہ لاہور کے لال قلعے میں تعینات تھے۔ ایک رات اچانک حکم آیا کہ بارڈر کی طرف نکلنا ہے، اور رات 3 بجے کے قریب فوج روانہ ہوگئی۔
انہوں نے بتایا کہ جب وہ بارڈر پر پہنچے تو انڈیا کی جانب سے شدید گولہ باری ہو رہی تھی، اور انڈین فوج کے اہلکار مستی میں تھے، لیکن جب پاکستان نے جوابی کارروائی شروع کی، تو وہ پیچھے بھاگنا شروع ہوگئے۔
’ہم نے کارروائی کرتے ہوئے دشمن کو پیچھے دھکیل دیا، ہمارے کچھ ساتھی شہید ہوئے، لیکن ہم نے بھارتی علاقوں پر قبضہ کرلیا۔ اس وقت بہت جذبات تھے، ابھی بھی جذبات ہیں۔ ہمارے جو 65 والے جو ریٹائرڈ فوجی زندہ ہیں وہ سب بارڈر پر جانے کے لیے تیار ہیں۔‘
سید بادشاہ نے کہاکہ انہوں نے دشمن فوج کو پیچھے دھکیل کر انڈیا میں داخل ہو کر اٹاری نامی گاؤں تک قبضہ کیا تھا، انڈیا والے بزدل ہیں، ہمارے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں۔
مجھے جنگ میں حصہ لینے کی اجازت دی جائےسید بادشاہ کہتے ہیں کہ ان کے بال سفید ضرور ہیں، لیکن جذبہ جوان ہے، اور ہاتھ پاؤں ٹھیک ہیں۔ 65 والا جذبہ اب بھی ہے، اس وقت بھی ہر طرف اللہ اکبر کے نعرے تھے، اور اب بھی وہی جذبہ ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر انہیں پاک فوج کی طرف سے آرڈر ملا، تو وہ اسی وقت روانہ ہوں گے۔ ابھی جانے کے لیے تیار ہوں، گھر بھی نہیں جاؤں گا، ادھر سے ہی چلا جاؤں گا، بس اجازت درکار ہے۔
انہوں نے کہاکہ 65 کی جنگ میں حصہ لینے والے دیگر ساتھی بھی ان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں پاکستان نے جدید جنگی طیارہ ’رافیل‘ مار گرایا، فرانسیسی اعلیٰ عہدیدار نے بھی تصدیق کردی
’وہ بھی تیار ہیں، میں تو خود تیار ہوں، مجھے شہادت کی خواہش ہے، میں نے گھر میں بھی سب کو پہلے سے بتا دیا ہے کہ موقع ملے تو جنگ کے لیے جاؤں گا۔‘
سید بادشاہ مزید کیا جذبات رکھتے ہیں، جانیے اس ویڈیو رپورٹ میں
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
65 جنگ wenews ایل او سی بارڈر پاک بھارت کشیدگی پاکستان بھارت جنگ سید بادشاہ لائن آف کنٹرول وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایل او سی پاک بھارت کشیدگی پاکستان بھارت جنگ سید بادشاہ لائن آف کنٹرول وی نیوز میں حصہ لینے سید بادشاہ ہیں کہ کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔