کراچی:

صوبائی وزیر توانائی، ترقیات و منصوبہ بندی سندھ ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ حکومت سندھ نے قانون سازی کے ذریعے صوبے کے تمام اسپتالوں کو پابند کیا ہے کہ سڑکوں پر حادثات کا شکار زخمیوں کی جانیں بچانے اور فرسٹ ایڈ فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور  زخمیوں کو لانے والوں کے ساتھ اخلاق سے پیش آئیں۔

کراچی کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ پانچویں روڈ سیفٹی کانفرنس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے  خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیرتوانائی اور منصوبہ بندی ناصر حسین شاہ نے کہا کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت اور روڈ ایکسیڈنٹ میں کمی اور لاپرواہی سے اور تیز رفتاری سے گاڑیاں چلانے والوں کی حوصلہ شکنی کے لیے جرمانوں کی رقوم میں اضافہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قانون پر عمل درآمد کی ذمہ داری عوام پر تو عائد ہوتی ہی ہے مگر سب سے بڑی ذمہ داری حکومت کی ہوتی ہے۔

صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ روڈ سیفٹی کے حوالے سے سیف سٹی پروجیکٹ کو جدید خطوط پر استوار کیا جارہا ہے اور اس سلسلے میں جدید ٹیکنالوجی سے بھی استفادہ کیا جا رہا ہے، اس کے علاوہ 1122 کی ایمبولنسز کی سروسز کو بھی مزید بہتر بنانے کے ساتھ ان کا دائرہ کار بھی وسیع کیا جا رہا ہے۔

ناصر حسین شاہ نے کہا کہ روڈ سیفٹی کانفرنس کے دور رس نتائج سامنے آئیں گے اور اس سے ناصرف یوتھ کو بلکہ عوام کو بھی آگاہی حاصل ہوگی اور اس کانفرنس کے ذمہ داران اختتام پر اپنی سفارشات پیش کریں ، عوام کے وسیع تر مفاد کے لیے قابل عمل سفارشات پر عمل کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات یقینی بنائے جائیں گے۔

صوبائی وزیر توانائی نے کہا کہ یونیورسٹی روڈ پر ریڈ لائن پروجیکٹ کی جلد از جلد تکمیل کے لیے چیئرمین بلاول بھٹو نے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں جس کے باعث وزیراعلیٰ سندھ اور سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نہایت متحرک ہیں اور کراچی سمیت پورے صوبے کے انفرااسٹرکچر کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہریوں کے لیے عیدالاضحیٰ کے موقع پر صفائی ستھرائی کے لیے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ نے بہترین منصوبہ بندی کی ہے کیوں کہ سالڈ ویسٹ اب پورے کراچی میں کام کر رہا ہے، اس دفعہ عید کے موقع پر قربانی کی آلائشوں اور صفائی ستھرائی کے حوالے سے عوام کو بڑی اور خوش گوار تبدیلی نظر آئی گی۔

ان کا کہنا تھا کہ بدعنوانی میں کمی اور خاتمے کے لیے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو آن لائن کیا ہے اور ٹرانسپیرنٹ بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے ہیں اور عوامی شکایات پر فوری اقدامات کیے جائیں گے۔

وزیر توانائی نے مزید کہا کہ کراچی شہر میں اربن فاریسٹری قائم کی گئی ہے جن میں بڑی مثال لیاری اور ملیر ایکسپریس وے کے ساتھ قائم شہری جنگلات ہیں، انہوں نے پیش کش کی کہ اگر یوتھ پارلیمنٹ کے پاس شہر بھر میں شجرکاری کے حوالے سے کوئی منصوبہ ہے تو فوری طور پر پیش کریں حکومت اس سلسلے میں فوری طر پر فنڈز جاری کرے گی۔

پاک-بھارت کشیدگی پر بات کرتے ہوئے ناصر حسین شاہ نے کہا کہ بے بنیاد الزام پر مودی سرکاری نے جنگ کا آغاز کیا اور پانی روک کر ملک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے، فرانسیسی جہاز پر غرور کرتے تھے مگر ہماری افواج نے ان کا غرور خاک میں ملا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت ہماری شہری آبادی کو نقصان پہنچا رہا ہے جبکہ ہم صرف جنگی تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

ناصر شاہ نے کہا کہ 24 کروڑ عوام اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور مودی سرکار کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ہیں، پاکستان میں رہنے والا ہر ہندو، سکھ، عیسائی سب پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ناصر حسین شاہ نے کہا شاہ نے کہا کہ انہوں نے کے ساتھ رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بجٹ سے چند روز قبل ہی آئینی عدالت سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بڑا جھٹکا، وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی۔

نجی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا۔

 وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام ہے، حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا، اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا۔

لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی

فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں، قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی۔

وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی