کیا پاکستان کے پاس بھارتی طیاروں کو مار گرانے کا کوئی ثبوت ہے؟ معمہ حل، سوال کا جواب مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان نے بھارتی ہرزہ سرائی کے جواب میں اسی کے ہی طیارے مار گرائے ہیں جس کے بارے میں کچھ ناقدین ثبوت کے بھی بیانات دے رہے ہیں لیکن اب اس بارے میں واضح جواب آگیا ہے اور پاکستان کے پاس ثبوت بھی موجود ہیں۔
نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کے دوران وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے بتایا کہ "جب کسی بھی جہاز پر میزائل فائر کرتے ہیں ، ایئر کرافٹ کا ایک میکنزم ہوتا ہے ،مثال کے طور پر آپ ایک جہاز چلارہے ہیں، آپ نے ایک میزائل فائر کیا ہے تو آپ کے جہاز کا جو کمپیوٹرائز سسٹم ہے وہ اس میزائل کو بھی ٹریک کرتا ہے اور آپ کو دکھاتا ہے کہ آپ کا میزائل کہاں تک پہنچا ہے اور جب آپ کا میزائل اپنا ٹارگٹ اچیو کرلیتا ہے تو اس کی بھی نشاندہی ہوتی ہے ۔
پورا خطہ جنگ کے دہانے پر ہے، قومی سلامتی پر ہرگز آنچ نہیں آنے دینگے: محسن نقوی
انہوں نے مزید بتایا کہ یہ سارا جو الیکٹرانک ڈیٹا پاکستان کے پاس اور بہترین طریقے سے موجود ہے اور آپ اگر فائٹر جیٹ کے سیمولیشنز پر بھی جائیں، آپ آن لائن چلے جائیں، کوئی سافٹ ویئر خریدیں یا گیم خرید لیں تو اس کا ڈیٹا ریکارڈ آٹو میٹک ڈیٹا آپ کے پاس ہوتا ہے، یہ تو سادہ سی بات ہے ہر جہاز کے اندر یہ سسٹم موجود ہے تو ہمارے جن جہازوں نے میزائل فائر کر کے ان کے جہاز گرائے ہیں ان کا تمام ڈیٹا، تمام ریکارڈ الیکٹرانکلی ہمارے پاس موجود ہے ،بطور ثبوت بڑے اچھے طریقے سے پڑا ہوا ہے۔
بھارت بوکھلاہٹ کا شکار، بزدل فوج کی سول آبادی پر گولہ باری، 5 پاکستانی شہری شہید
عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ یہ بڑی بنیادی باتی ہیں، فوٹیج اور 100 فیصد کلیئر ہے کہ ہم نے successfully ہٹ کیاہے اور باقی دیکھیں میں ان کو یہ کہوں گا کہ ہمارے پاس تو ڈیٹا ہے ، آپ کو یاد ہوگا کہ صبح انڈیا ٹوڈے نے دکھایا تھا کہ تین جہازوں کا ملبہ اٹھارہے ہیں تو ان کا جو بلڈوزر ملبہ اٹھا کر لے کر جارہا ہے ، ان کے تو چینلز مان چکے ہیں اس بات کو تو ثبوت مانگنے والوں کو میں کہوں گا کہ ثبوت ہمارے پاس ہیں ، جب انڈیا خود مان گیا ہے تو اس کے بعد کوئی دوسرا سوال پیدانہیں نا ہوتا۔
بلوچستان اسمبلی کے حلقہ 21 سے متعلق انتخابی عذرداری پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔