پاکستان نے بھارتی سیکریٹری خارجہ کی جانب سے غیر مہذب ریمارکس کی مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پلانٹ پر بھارتی حملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر بین الاقوامی برادری کو نوٹس لینا چاہیے۔’ہم بھارتی سیکریٹری خارجہ کی جانب سے غیر مہذب ریمارکس کی مذمت کرتے ہیں، اس لیول کے آفیسر سے اس طرح کی زبان کی توقع نہیں کی جا سکتی۔‘

یہ بھی پڑھیں: بھارت کا بزدلانہ حملہ: غیر ملکی سفیروں کو نائب وزیر اسحاق ڈار کی بریفنگ

دفتر خارجہ میں صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ نیلم جہلم منصوبے کوبھارتی حملے میں نقصان پہنچا، پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے پاکستان کیخلاف جھوٹاپروپیگنڈا کیا۔

’ایک بارپھرپہلگام واقعہ کے الزامات کومستردکرتے ہیں بھارت دہشتگردی کاشکارہونے اورمظلومیت کاڈرامہ کررہاہے، پاکستان اپنے دفاع میں اقدامات اٹھائے گا۔‘

مزید پڑھیں: بھارت کے 70 سے 80 جیٹ فائٹرز نے پاکستان پر حملے میں حصہ لیا، اسحاق ڈار

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت کے جنگی جنون نے کروڑوں لوگوں کا مستقبل خطرے میں ڈال دیا ہے، کل بھارت نے پاکستان پر بہت سے بے بنیاد الزامات لگائے، کہا گیا کہ پاکستان نے پہلگام حملے سے کشیدگی کو بڑھاوا دیا، حقیقت یہ ہے کہ بھارت پہلگام حملے کے کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کر سکا۔

ترجمان کے مطابق بھارت نے نامعلوم سوشل میڈیا پوسٹس کی بنیاد پر ریزیسٹینس فرنٹ کے خلاف دہشت گردی کا کیس بنایا، ممبئی اور پلوامہ جیسے واقعات کی تحقیقات بھارت کی ہٹ دھرمی اور عدم تعاون کی وجہ سے مکمل نہ ہو سکیں۔

مزید پڑھیں: عالمی برادری نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پلانٹ پر بھارتی حملے کا نوٹس لے، پاکستان کا مطالبہ

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہندو انتہا پسندی سے لبریز بھارتی جارحیت کے نتیجے میں 40 پاکستانی شہید ہوئے اور نیلم جہلم ہائڈرو پاور پروجیکٹ کے کچھ حصے تباہ ہوئے، پاکستان عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ بھارت کو اس معاملے پر جواب دہ ٹھہرائے۔

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی مذمت کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت یکطرفہ سندھ طاس معاہدے کو معطل نہیں کر سکتا ہے، سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر بین الاقوامی برادری کو نوٹس لینا چاہیئے ۔

مزید پڑھیں: بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی، پاکستان پر بلااشتعال فضائی حملوں پر بھرپور احتجاج

’بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کر کے عالمی معاہدوں کی روح کی خلاف ورزی کرر ہا ہے، پاکستان زرعی ملک ہے بھارتی فیصلے کے اثرات کل کروڑوں لوگوں پر ہوں گے۔‘

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارت کی جانب سے پاکستان کے متعدد شہروں میں ڈرون حملے کیے گئے، کیا کوئی ملک کسی بھی ملک کو سوشل میڈیا بیانات پر کسی ملک پر حملہ کرنے کی اجازت دیتا ہے، بھارت پاکستان اور دنیا بھر میں دہشتگردی کے نیٹ ورک چلا رہا ہے، جس کے بلوچستان سے گرفتار حاضر سروس را ایجنٹ کلبھوشن یادو کی صورت میں ثبوت موجود ہیں۔

مزید پڑھیں: بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی، آبی ذخائر پر بھارتی بدترین جارحیت

ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہبازشریف نے پہلگام واقعہ کی مکمل انکوائری کا کہا لیکن بھارت نے جارحیت کا راستہ اپنایا، پاکستان اقوام متحدہ چارٹر کے مطابق جوابی کاروائی کا حق رکھتا ہے، ممبئی اور پٹھان کوٹ کی تحقیقات بھارت کی وجہ سے نہیں کی جا سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ چارٹر پلوامہ پہلگام ترجمان دفتر خارجہ ڈرون سندھ طاس معاہدے ممبئی نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پلانٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ چارٹر پلوامہ پہلگام دفتر خارجہ سندھ طاس معاہدے نیلم جہلم سندھ طاس معاہدے بین الاقوامی بھارتی حملے مزید پڑھیں کی جانب سے پر بھارتی بھارت کی بھارت نے کہ بھارت

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا