ضلع وسطی میں سرپرائز موک ایکسرسائز، ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کی مشقیں
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی طحہ سلیم کی ہدایت پر لیاقت آباد کے ٹنکی گراؤنڈ میں سرپرائز موک ایکسرسائز کا انعقاد کیا گیا۔ اس فرضی مشق کا مقصد ایمرجنسی صورتحال میں فوری اور مؤثر ردعمل کو یقینی بنانا تھا۔
مشق کی نگرانی اسسٹنٹ کمشنر لیاقت آباد نے کی جبکہ اس میں سندھ اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم، مختلف ٹاؤنز کے اہلکار، فائر بریگیڈ، کے الیکٹرک، کے ایم سی، اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے بھرپور شرکت کی۔
ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی طحہ سلیم کا کہنا تھا کہ مشقوں کا مقصد اپنی فورس کو ہر وقت تیار رکھنا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔موجودہ حالات میں عوام کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایمبولینسز اور فائرفائٹرز ہر وقت تیار ہیں اور کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔