ضلع وسطی میں سرپرائز موک ایکسرسائز، ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کی مشقیں
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی طحہ سلیم کی ہدایت پر لیاقت آباد کے ٹنکی گراؤنڈ میں سرپرائز موک ایکسرسائز کا انعقاد کیا گیا۔ اس فرضی مشق کا مقصد ایمرجنسی صورتحال میں فوری اور مؤثر ردعمل کو یقینی بنانا تھا۔
مشق کی نگرانی اسسٹنٹ کمشنر لیاقت آباد نے کی جبکہ اس میں سندھ اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم، مختلف ٹاؤنز کے اہلکار، فائر بریگیڈ، کے الیکٹرک، کے ایم سی، اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے بھرپور شرکت کی۔
ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی طحہ سلیم کا کہنا تھا کہ مشقوں کا مقصد اپنی فورس کو ہر وقت تیار رکھنا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔موجودہ حالات میں عوام کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایمبولینسز اور فائرفائٹرز ہر وقت تیار ہیں اور کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔