بھارتی میڈیا کا نیا ڈرامہ: لاہور، کراچی اور نیویارک پرقبضے کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ذرائع کے مطابق بھارتی میڈیا افواجِ پاکستان کی کامیاب کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے جھوٹے دعوؤں اور گمراہ کن خبروں کا سہارا لے رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بھارتی میڈیا نے اپنی ہی مسلح افواج کی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے “فالس فلیگ آپریشنز” کو بالی ووڈ فلموں کی طرز پر پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت میں معروف ویب سائٹ “دی وائر” تک رسائی بھی روک دی گئی ہے، تاکہ حقیقت عوام کے سامنے نہ آسکے۔ بھارتی بزنس مین کی جانب سے یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ بھارتی میڈیا کے جھوٹے دعوؤں پر مبنی تصدیق کے بغیر کیے گئے ٹوئٹس کو وہ خود ڈیلیٹ کر رہا ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ بھارتی میڈیا چینل “آج تک” نے لاہور، “زی نیوز” نے کراچی اور “ریپبلک” نے نیویارک کو اپنی خبروں میں “فتح” کر لیا، جو سراسر بے بنیاد دعوے ہیں۔ عوام میں ان خبروں پر شدید تنقید کی جا رہی ہے، جب کہ بھارتی میڈیا کے اینکرز جھوٹ پر مبنی بیانیے کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔
مزیدپڑھیں:مولانا فضل الرحمان نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں قید رکھنے کو غلط قرار دے دیا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: بھارتی میڈیا
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔