پاکستان پر دہشتگرد کارروائیوں کے بعد بھارت نے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ کے فائنل کی میزبانی کرنے پر غور شروع کردیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل 2027 کی میزبانی کیلئے بولی میں حصہ لینا چاہتا ہے لیکن اس میں بڑی رکاوٹ پاکستان بن سکتا ہے۔

ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ 2027 کے سائیکل میں اگر پاکستانی ٹیم ایونٹ کے فائنل میں پہنچی تو ایونٹ کو بھارت سے منتقل کرنا پڑے گا کیونکہ سیکیورٹی وجوہات کے باعث گرین شرٹس ہندوستان میں نہیں کھیلیں گے۔

مزید پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی؛ آئی پی ایل کو کتنا نقصان ہورہا ہے؟ حیران  کُن رپورٹ سامنے آگئی

دونوں ٹیمیں محض آئی سی سی ایونٹس یا ایشین کرکٹ کونسل کے ایونٹس میں ہی ایک دوسرے کے مدمقابل آتی ہیں جبکہ 2012-13 کے بعد سے کوئی دوطرفہ سیریز نہیں کھیلی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: جارحیت گلے پڑ گئی؛ بھارت پاکستان کا ردعمل برداشت نہیں کر سکا، آئی پی ایل معطل

آئی سی سی چیمپئینز ٹرافی کی میزبانی کے وقت بھی بھارت نے پاکستان آنے پر سوال اٹھادیا تھا، جس پر پاکستان نے جوابی وار کرتے ہوئے 2027 تک بھارت میں شیڈول تمام ایونٹس نیوٹرل وینیو پر کھیلنے کا اعلان کیا تھا۔

قبل ازیں 2021، 2023 میں ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ کے فائنل انگلینڈ میں کھیلے گئے تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ کی میزبانی

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق