پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مذاکرات میزائلوں اور ڈرونز کے تلے نہیں ہوسکتے۔

برطانوی میڈیا سے گفتگو میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس مرحلے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی رسمی سفارتی رابطے نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے یقین رکھتا ہے کہ مذاکرات ہی پائیدار امن کا واحد راستہ ہیں، لیکن مذاکرات میزائلوں اور ڈرونز کے تلے نہیں ہوسکتے۔

پی پی پی چیئرمین نے مزیدکہا کہ بھارت اگر اپنا جنگجو رویہ روک دے تو ہم کشیدگی کم کرنے اور سفارتی چینل استعمال کرنے کےلیے تیار ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ امریکا سمیت بین الاقوامی ثالث سے رابطے میں ہیں، ذمے داری دکھانے کا دباؤ مکمل طور پر بھارت پر ہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

پڑھیں:

بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی

رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری کل بتاریخ تین جون بروز بدھ شام چار بجے گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ کی تحصیل علی آباد کے ڈگری کالج گراؤنڈ میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گی۔  اسلام ٹائمز۔ رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری کل بتاریخ تین جون بروز بدھ شام چار بجے گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ کی تحصیل علی آباد کے ڈگری کالج گراؤنڈ میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گی۔ جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کل تین جون بروز بدھ شام پانچ بجے گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کی تحصیل چلاس میں واقع فٹبال گراؤنڈ میں انتخابی جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟