پاک فوج کا وار؛ صرف 5 گھنٹے میں بھارتی غروردفن کردیا؛ دشمن گھٹنے ٹیکنے پر مجبور
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
پاک فوج نے کاری وار کرکے صرف 5 گھنٹوں میں بھارت کا جنگی غرور دفن کردیا اور مختصر ترین وقت میں فیصلہ کن برتری حاصل کرتے ہوئے دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔
پیشہ ورانہ مہارت کا شاہکار:
پاکستانی مسلح افواج نے صرف 5 گھنٹوں میں دشمن کو ایسی کاری ضرب لگائی کہ بھارت کا جنگی غرور زمین بوس ہو گیا۔ یہ کارروائیاں اعلیٰ تربیت، جدید ٹیکنالوجی اور بروقت فیصلہ سازی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
S-400 کا خاتمہ ہونے سے بھارت کی فضائی ڈھال ٹوٹ گئی:
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان ایئر فورس کے JF-17 تھنڈر ہائپرسونک میزائلوں نے آدم پور میں بھارت کے جدید S-400 ایئر ڈیفنس سسٹم کو تباہ کر دیا، جس کی قیمت تقریباً 1.
سائبر محاذ پر مکمل تسلط:
پاکستانی سائبر ماہرین نے بی جے پی کی آفیشل ویب سائٹ سمیت بھارت کی درجنوں اہم ویب سائٹس کو ہیک کر لیا، ان میں کرائم ریسرچ انویسٹیگیشن ایجنسی، مہانگر ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی، بھارت ارتھ موورز لمیٹڈ، ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ، بارڈر سیکیورٹی فورس، انڈیا کی منفرد شناخت اتھارٹی اور ہزاروں سرکاری کیمروں کا کنٹرول بھی حاصل کر لیا گیا۔
اسی طرح 70 فی صد بھارتی بجلی کا نظام معطل کر دیا گیا ہے، جو دشمن کے مواصلاتی اور دفاعی ڈھانچے کو مفلوج کر گیا۔
بری اور فضائی اہداف پر مہلک ضربیں:
پاک فوج نے دہرانگیاری میں بھارتی توپ خانہ تباہ کردیا۔ اس کے علاوہ ناگروٹا میں براہموس میزائل ذخیرہ تباہ ہونے سے دشمن کو بھاری جانی نقصان بھی پہنچا ہے۔ اسی طرح اُڑی فیلڈ سپلائی ڈپو مکمل تباہ کردیا گیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق بھمبر گلی (IIOJK) میں بھارتی بریگیڈ ہیڈکوارٹرز تباہ کردیا گیا۔ برنالہ، پٹھان کوٹ، باتھِنڈا، سرسا اور اکھنور کے فضائی اڈے مکمل تباہ کردیے گئے ہیں۔ خاص طور پر سرسا ائیر فیلڈ کی تباہی کو بھارتی میڈیا نے خود بھی تسلیم کرلیا ہے۔
لائن آف کنٹرول پر بھارتی چوکیاں نیست و نابود:
پاکستان کی مسلح افواج نے نیزہ پیر سیکٹر کے سامنے دھرم سال 1، دانہ 1، اور ٹیبل ٹاپ پوسٹس مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں۔ دشمن کے متعدد دیگر پوسٹس کو بھی مکمل طور پر مٹا دیا گیا ہے۔
بھارت کی جنگی صلاحیت پر نتیجہ خیز کاری ضرب:
پاکستان نے صرف چند گھنٹوں میں بھارتی دفاعی نظام، فضائی طاقت، سپلائی لائن اور سائبر نیٹ ورک کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ اس آپریشن نے نہ صرف زمینی بلکہ الیکٹرانک جنگ میں بھی پاکستان کی برتری ثابت کر دی ہے۔
پاکستان کا پیغام واضح:
پاکستان اپنے ہر قدم سے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گا۔ پاکستانی مسلح افواج نہ صرف چوکنا ہیں بلکہ دشمن کے ہر ہتھکنڈے کو پیشگی ناکام بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں بھارتی میں بھارت تباہ کر دیا گیا
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔