Express News:
2026-06-03@06:41:01 GMT

غزہ کی ناکہ بندی اور اسرائیلی اہداف

اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT

غزہ پر ہونے والی امریکی و اسرائیلی جارحیت اب بیسویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے، البتہ درمیان میں کچھ دن کے لیے جنگ بندی کا معاہدہ ہوا ہے لیکن وہ بے سود رہا ہے جس کو بہت جلد ہی غاصب صیہونی حکومت اسرائیل نے سبوتاژ کیا اور پھر سے غزہ کے مظلوم عوام کی نسل کشی شروع کر دی گئی ہے۔

مختلف رپورٹس کے مطابق غزہ میں ساٹھ ہزار سے زائد فلسطینی اس جارحیت میں شہید ہوچکے ہیں جب کہ دو لاکھ سے بھی زیادہ زخمی ہیں۔ پندرہ لاکھ تو ایسے ہیں جو بے گھر ہیں اور بے سر و سامانی میں زندگی گزار رہے ہیں۔ رفح کراسنگ پر لگائے گئے عارضی خیموں کی رہائش بھی غاصب صیہونی حکومت اسرائیل کی جارحیت سے محفوظ نہیں ہے۔

غزہ کے علاوہ غاصب صیہونی حکومت مغربی کنارے میں بھی فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کرنے جیسے گھنائونے جرائم کا ارتکاب کر رہی ہے۔ دوسری طرف فلسطینی مزاحمت کی تحریکیں ہیں جو مسلسل غاصب صیہونی حکومت اسرائیل کی جارحیت کا مقابلہ کر رہی ہیں۔

اس راستے میں مجاہدین کی قربانیاں بھی شامل ہیں۔ فلسطینی مجاہدین کی قربانیوں کے ساتھ ساتھ فلسطینی شہریوں کی پائیدار استقامت اور صبر بھی بے مثال ہے کہ جس نے فلسطینی مزاحمت کو مزید تقویت فراہم کی ہے۔ اس عرصے میں پوری دنیا نے ایک بات تو سمجھ لی ہے کہ امریکا سمیت مغربی ممالک کی تمام تر طاقت اور ٹیکنالوجی کے باوجود سب کے سب مل کر غاصب اسرائیل کی فلسطینی عوام اور مزاحمت پر کامیابی کا اعلان نہیں کر سکے ہیں، آج بھی جنگ جاری ہے، معرکہ جاری ہے۔

غزہ میں مزاحمت اپنی جوابی کارروائیوں کو انجام دے رہی ہے۔ غاصب صیہونی حکومت اسرائیل انیس ماہ کے اس عرصے میں جہاں ساٹھ ہزار لوگوں کو قتل کرچکی وہاں اپنے قیدیوں کو حماس اور اسلامی مزاحمت کے ہاتھوں سے آزاد کروانے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔

قیدیوں کے اس معاملے پر غاصب صیہونی حکومت کے اندرونی خلفشار میں بھی روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔امریکا اور اسرائیل نے فلسطینیوں کو شکست دینے اور غزہ پر اسرائیلی کنٹرول کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہزاروں بے گناہ انسانوں کا قتل کیا، نسل کشی کی ہے اور لاکھوں کو زخمی کیا ہے جب کہ غزہ میں کوئی بھی اسکول، مسجد، مدرسہ اور اسپتال سمیت ایسی عمارت ثابت نہیں رہی ہے کہ جس کو عمارت کا عنوان دیا جائے۔

غزہ کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے بعد بھی امریکا اور اسرائیل نے غزہ کی مکمل ناکہ بندی کا ہتھیار استعمال کیا ہے۔ غزہ میں موجود لاکھوں نہتے شہریوں کے خلاف ناکہ بندی کو ہتھیار بنا کر استعمال کیا جا رہا ہے اور بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ آج اکیسویں صدی میں دنیا کی ماڈرن حکومت امریکا اور اسرائیل ہیں جو کھلے عام لاکھوں انسانوں کو بھوک کے ہتھیار سے قتل کرنے کے در پر ہیں۔

غزہ میں گزشتہ دو ماہ سے کوئی بھی امدادی سرگرمیاں ہونے نہیں دی جارہی ہیں جس کی وجہ سے خوراک اور ادویات کے ساتھ پانی کی شدید قلت ہے اور اس قلت کی وجہ سے معصوم بچے جان کی بازی ہار رہے ہیں اور پوری دنیا کی حکومتیں اس تماشہ پر خاموش ہیں۔

عالمی ادارے بھی بے حس ہو چکے ہیں۔ کئی ایک عالمی اداروں کو تو خود غاصب صیہونی فوج کے حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے لیکن پھر بھی نہ تو کئی عالمی ادارہ اور نہ کوئی حکومت غاصب صیہونی حکومت کے خلاف اٹھنے کو تیار ہے۔ سب ہی مذمت کے الفاظ سے کام چلا رہے ہیں لیکن غزہ کی ناکہ بندی کی وجہ سے ہزاروں بے گناہ لوگ موت کی نیند سو رہے ہیں۔

حالیہ دنوں مطالعے سے گزرنے والی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ چالیس دن میں غزہ میں ایک ہزار معصوم بچے قتل ہوئے ہیں، جن میں بڑی تعداد بھوک اور پیاس کی شدت سے ماری گئی ہے۔ یہاں ایک المیہ اور بھی موجود ہے وہ یہ ہے کہ غزہ کی صورتحال تو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے لیکن اس کے باوجود بھی خطے کی عرب و غیر عرب ریاستیں غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم رکھے ہوئے ہیں۔

غزہ میں ہمارے بچے بھوک اور پیاس کی شدت سے مر رہے ہیں لیکن ترکی جیسے ممالک سے کھانے پینے کی اشیاء غاصب صیہونی فوج کی مددکے لیے مسلسل اور بلا تعطل سپلائی ہو رہی ہیں۔ ایسے ہی دیگر عرب ممالک سے بھی زمینی راستوں سے اسرائیل کی ضروریات کو پورا کیا جا رہا ہے کیونکہ سمندری راستوں پر یمن کے انصار اللہ اور مسلح افواج نے ناکہ بندی لگا رکھی ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ غزہ پر جارحیت اور ناکہ بندی کا خاتمہ کیا جائے بصورت دیگر سمندری ناکہ بندی جاری رہے گی اور کسی بھی امریکی و اسرائیلی جہاز کو گزرنے نہیں دیا جائے گا۔

اس صورتحال میں خطے میں موجود عرب حکومتوں نے اسرائیل کی ضروریات کو متبادل زمینی راستوں سے فراہم کرنا شروع کردیا ہے، بہرحال یہ ایک شرمناک صورتحال ہے۔غزہ کی ناکہ بندی میں غاصب اسرائیل کے اہداف واضح ہیں وہ حماس اور جہاد اسلامی جیسی مزاحمتی تنظیموں کو غیر مسلح کرنا چاہتے ہیں اور غزہ کے عوام کے دل میں فلسطینی مزاحمت کے خلاف نفرت کا بیج بونا چاہتے ہیں۔

ماضی میں ایسی مثالیں الجزائر میں دیکھنے کو ملی تھیں جب فرانس کی فوج شکست سے دوچار تھی تو ایسے ہی ہتھکنڈوں کا استعمال کیا گیا تھا۔ بہرحال امریکا اور اسرائیل غزہ کو تباہ و برباد کرنے اور نسل کشی کے بعد اب ناکہ بندی کے حربے میں بھی بری طرح ناکامی کا شکار ہو رہے ہیں کیونکہ غزہ کے عوام کی پائیدار استقامت کے سامنے سب دھرے کا دھرا رہ گیا ہے۔

غزہ والوں نے اعلان کیا ہے کہ فلسطینی مزاحمت کے ساتھ ہیں چاہے کتنی ہی قربانیاں دینا پڑیں دیں گے لیکن پیچھے نہیں ہٹیں گے، لٰہذا امریکا اور اسرائیل غزہ کی ناکہ بندی کے بعد بھی اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں اور یہ فلسطینی عوام اور فلسطینی مزاحمت کی کامیابیوں میں سے بڑی کامیابی شمار کی جا رہی ہے۔ یہ طوفان اقصیٰ ہے جو سات اکتوبر سے تاحال جاری ہے اور نہ جانے یہ طوفان کب تک جاری رہے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: غاصب صیہونی حکومت اسرائیل امریکا اور اسرائیل غزہ کی ناکہ بندی فلسطینی مزاحمت استعمال کیا اسرائیل کی ہیں اور رہے ہیں کے ساتھ ہے اور رہی ہے کہ غزہ غزہ کے کیا جا رہا ہے

پڑھیں:

قابلِ فخر سعد ایدھی

کراچی ایئرپورٹ پر 23 ء مئی کو ایک ہجوم جمع تھا۔ اس ہجوم کے شرکاء جس میں مرد ، عورتیں، جوان اور بچے شامل تھے، سعد ایدھی کے استقبال کے لیے دور دراز علاقوں سے ایئرپورٹ پہنچے تھے۔ اس ہجوم میں فیصل ایدھی اور ان کی اہلیہ بھی شامل تھیں جو اپنے بیٹے کے استقبال کے لیے آئی تھیں۔ا ن کے ساتھ سعد ایدھی کی اہلیہ بھی تھی جن کی گود میں تین ماہ کی بچی بھی تھی۔ فیصل اپنے والد عبدالستار ایدھی کی روایت کے امین ہیں۔ عبدالستار ایدھی نے بہادری کے ساتھ انسانوں کی مدد کرنے کی زندہ مثالیں قائم کی تھیں۔ فیصل کو فخر ہے کہ ان کا بیٹا ان کے والد کے راستے پر گامزن ہے۔

سعد ایدھی اسرائیل کے کنسرٹیشن کیمپ سے رہا ہو کر ترکیہ پہنچے تھے تو استنبول سے کراچی آرہے تھے۔ سعد ایدھی نے جب فلوٹیلا میں سفر کر کے اسرائیل کا محاصرہ توڑ کر غزہ جانے کا فیصلہ کیا تھا تو ایدھی خاندان کے لیے ایک بری خبر تھی اور اس خبر کا ایک واضح پس منظر تھا۔ چند ماہ قبل ایک اور فلوٹیلا میں سوار ہو کر 430 کے قریب رضاکار غزہ روانہ ہوئے تھے تو اسرائیل کی نیوی نے بین الاقوامی سمندر میں فلوٹیلا پر فائرنگ کی تھی اور توپوں کے گولے پھینکے تھے۔

اسرائیلی فوجوں نے اس فلوٹیلا کے قافلے میں سوار افراد کو گرفتار کر کے بیہمانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور عام خیال تھا کہ اس دفعہ اسرائیل کی نیوی فلسطینی شہریوں سے یکجہتی کے لیے آنے والے افراد کو ہلاک کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔ ایدھی خاندان کی خواتین سخت پریشان تھیں مگر سعد ایدھی کے والد فیصل ایدھی نے اپنے بیٹے کو اس خطرناک مشن پر جانے سے نہیں روکا تھا، یوں سعد کا حوصلہ بہت بلند ہوگیا تھا۔

غزہ کا علاقہ فلسطین میں شامل ہے۔ فلسطین کے دو حصے دریائے اردن کے مغربی کنارے سے متصل ہیں۔ غزہ کی سرحد ایک طرف مصر سے ملتی ہے تو جنوبی مغرب میں اسرائیل ہے اور مشرق اور جنوب میں بحیرہ روم واقع ہے۔ بحیرہ روم جس کو انگریزی میں Mediterraneen Sea کہا جاتا ہے، یہ افریقہ، یورپ اور ایشیا کے درمیان سمندر ہے جو تقریباً چاروں طرف سے زمین پر بھی گھرا ہوا ہے۔

یہ صرف وہاں سے کھلا ہوا ہے جہاں اسپین اور فرانس آمنے سامنے ہیں اور درمیان میں چند کلومیٹر کا سمندر بحیرہ روم کے شمال میں یورپ، جنوب میں افریقہ اور مشرق میں ایشیا موجود ہے۔ بحیرہ روم 2.5 ملین مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اسرائیل نے گزشتہ بہت برسوں سے فلسطین کے تمام علاقوں کا بحیرہ روم کے راستہ کا گھیراؤ کیا ہوا ہے۔ غزہ اور فلسطین کے دیگر علاقوںمیں آباد عرب باشندوں کو بحیرہ روم میں نقل و حمل کی اجازت نہیں ہے۔ فلسطین سے محبت کرنے والے سماجی کارکن جن میں یورپ، امریکا، ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کے ممالک کے شہری بھی شامل ہیں مسلسل کوشش کررہے ہیں کہ اسرائیل کی ناکہ بندی کو ختم کرایا جائے۔

ان کارکنوں نے فلوٹیلا میں شامل بہت سے چھوٹے جہازوں کا کاررواں کے ذریعے جس میں دنیا بھر کے سماجی و سیاسی کارکن، صحافی اور خواتین شامل ہیں نے غزہ کے ساحل پر پہنچنے کا طریقہ اپنایا ہوا ہے۔ یہ کارکن اپنے خرچہ پر ترکیہ میں جمع ہوتے ہیں اور پھر یہ قافلہ بحیر ئہ روم سے گزرتا ہوا غزہ کے قریب پہنچتا ہے۔ پہلے تو اسرائیلی فوجیں غزہ کے قریب فلوٹیلا سے جہازوں میں سوار افراد کو بندرگاہ سے ہی نکال دیتے تھے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج کا رویہ غیر انسانی ہوتا گیا۔ سعد ایدھی ترکیہ کی بندرگاہ Marmaris Port سے روانہ ہوئے تھے۔ ابھی یہ قافلہ فلسطین اور اسرائیل سے بہت دور بین الاقوامی سمندر میں پہنچا تھا کہ اسرائیل کی گن بوٹس نے فلوٹیلا کے جہازوں پر مارٹر توپ کے گولے پھینکنے شروع کردیے۔ پھر ان فوجیوں نے ربڑ کی گولیاں چلانا شروع کردیں ۔

بین الاقوامی سمندر میں اسرائیل کی اس جارحیت کا کئی جواز نہیں تھا مگر پھر یہ فوجی چھوٹے جہازوں میں کود گئے اور فلوٹیلا کے جہازوں میں رضاکاروں کی کی آنکھوں میں پٹیاں باندھ دی گئیں اور جب یہ لوگ بندرگاہ پر پہنچے تو فلوٹیلا میں شامل 450 افراد کو جن میں بوڑھے، بچے اور خواتین بھی شامل تھے گھسیٹ گھسیٹ کر چھوٹی سی جیل میں دھکیل دیا گیا۔ سعد ایدھی نے کراچی میں بتایا کہ تمام لوگوں کو مسلسل مرغے بنا کر رکھا گیا۔ اسرائیلی فوجی ان رضاکاروں پر بندوق کے پٹ سے حملہ کرتے رہے اور خاص طور پر گھٹنوں اور پسلیوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا۔ کئی افراد کی پسلیاں ٹوٹ گئیں۔

Global Sumud Flotilla کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے فوجیوں نے کم از کم 15 افراد کو جنسی بدسلوکی کا نشانہ بنایا۔ ان منتظمین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیل کے فوجی دستے نے ایک جہاز کو کنسرٹیشن کیمپ میں تبدیل کیا اور اس جہاز کے گرد خاردار تار لگادیئے گئے۔ پھر اس عارضی جیل میں کم گنجائش کے باوجود 450کے قریب رضاکاروں کو رکھا گیا۔ آسٹریلین ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے جانوروں سے زیادہ بدتر سلوک کیا ۔ اٹلی کے ماہرمعاشیات نے اسرائیلی فوج کے بدترین سلوک کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ انھیں 24 گھنٹوں کے دوران بار بار تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کئی دفعہ رضاکاروں کو زمین پر گھسیٹا گیا ، ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں اور انھیں پینے کے لیے پانی تک نہیں دیا گیا۔

سعد ایدھی نے بتایا کہ دون دن کی قید کے دوران صرف ایک ایک بوتل پانی دیا گیا۔ پھر تقریباً ہر رضاکار کے گھٹنوں کو مجروح کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسرائیل کے وزیر دفاع نے ایک رضا کار لڑکی کے بال کھینچے اور یہ وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تو یورپ میں شدید احتجاج ہوا۔ فرانس کی حکومت نے اسرائیلی وزیر دفاع کا ویزا منسوخ کردیا۔ یورپی یونین کی ترجمان نے اسرائیل کے رضاکاروں پر تشدد کی شدید مذمت کی۔ برطانیہ، جرمنی، اسپین اور دنیا بھر کے دیگر ممالک نے مظلوم رضاکاروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

اسرائیل کی حکومت کو اس بات کی توقع نہیں تھی کہ ایشیائی اور افریقی ممالک کے علاوہ برطانیہ ، فرانس اور جرمنی وغیرہ بھی اسرائیل کی انسان دشمن پالیسیوں کے خلاف اتنا سخت ردعمل ظاہر کریں گے۔اس فلوٹیلا کے 50 جہازوں میں زیادہ تعداد اسپین اور دیگر یورپی ممالک کے باشندوں کی تھی۔ یہ لوگ اسرائیل کے جرائم کو آشکار کرنے کے لیے فلوٹیلا کے جہازوں میں سوار ہوئے تھے۔

انھیں اگرچہ اپنے مشن کی کامیابی کی زیادہ امید نہیں تھی مگر انسانیت کی خاطر اور غزہ کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے لیے یہ تمام افراد اس فلوٹیلا کا حصہ بنے تھے۔ اس فلوٹیلا میں شریک سماجی کارکنوں نے اسپین کی خانہ جنگی کی یاد تازہ کردی۔ جب اسپین کے فاشسٹ جنرل فرانکو کی حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے والے اس بریگیڈ میں دنیا بھر کے ادیب، شاعر اور دانشور شامل ہوئے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ فلوٹیلا کے رضاکاروں پر اسرائیلی فوج کے بیہمانہ سلوک کے خلاف عالمی عدالت انصاف فوری طور پر کارروائی کرے اور اسرائیل کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں۔

فلسطین کے لیے جدوجہد کرنے والے یہ مختلف ممالک کے کارکن صرف فلسطین کے عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ سعد ایدھی پر پوری قوم کو فخر ہے۔ سعد ایدھی اور دیگر انسانی حقوق کے کارکنوں نے جو جدوجہد کی ہے، وہ وقت جلد آئے گاجب اس جدوجہد کے مثبت نتائج برآمد ہونگے اور فلسطین ایک متحدہ ملک کے طور پر دنیا کے نقشہ پر ابھرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان