ہم سب ایک‘ قومی یکجہتی کیلئے پہلے عمران کو رہا کریں: اسد قیصر
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
صوابی( نامہ نگار ) تحریک انصاف کے رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ہفتہ کو باچہ خان میڈیکل کمپلیکس شاہ منصور میں نئی جدید لیبارٹری اور محکمہ آبپاشی ٹیوب ویل سولرائزیشن منصوبے کی افتتاح کے موقع پر دو ٹوک الفاظ میں بھارت پر واضح کردیا ہے کہ اس وقت مودی سرکار اگر یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان میں کوئی تقسیم ہے، اگرچہ لوگوں کے کچھ گلے شکوے ہیں، لیکن ایسا بالکل نہیں ہے کہ ہم تقسیم ہیں ، بھارتی جارحیت کے خلاف ہم سب ایک ہیں پاکستان ہم سب کا ہے اور مجھے فخر ہے کہ جس جرات اور بہادری سے ہماری فورسز نے کل رات بھارتی حملوں کا جواب دیا ہے۔ اگر مودی کو یہ سبق یاد آ گیا ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ پاکستان کا بچہ بچہ ملکی دفاع کے لیے اٹھ کھڑا ہوگا۔میں حکومت سے ضرور مطالبہ کروں گا کہ قومی یکجہتی کے لیے ماحول پیدا کریں۔ قومی یکجہتی کے لیے سب سے پہلے عمران خان کو رہا کریں، جو بے گناہ جیل میں ہے۔ ہاں ہم پر فرض ہے کہ جس بہادری سے ایئر فورس، فوج اور دوسرے دفاعی اداروں نے بھارت کو جواب دیا، ہم ان کے ساتھ کھڑے ہوں۔میں ایک بار پھر مطالبہ دہراتا ہوں کہ قومی یکجہتی کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو یکجا کیا جائے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: قومی یکجہتی کے لیے
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔