ٹام کروز کا جواب، مداح ہوشیار کہنے پر مجبور
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
ہالی ووڈ کے اسٹار اداکار ٹام کروز نے ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی سے متعلق سوال کا ایسا جواب دیا کہ مداح اسے ہوشیار کہنے پر مجبور ہوگئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مشن امپاسبل دی فائنل ریکوننگ رواں برس کی متوقع اور اہم ترین فلموں میں سے ایک ہے۔
ٹام کروز نے فلم کی پروموشن جمعرات کی شام کوریا کے دارالحکومت سیول میں پریس کانفرنس کے ذریعے کی، وہ اس دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر ملکی ممالک میں بننے والی فلموں پر ٹیرف سے متعلقہ سوال پر جواب دینے سے گریز کیا۔
رپورٹر نے اُن سے پوچھا کہ میں نے یہ فلم دیکھی ہے، اسے افریقا سمیت دنیا کے مختلف مقامات پر فلمایا گیا ہے، اس کے ساتھ ہی آپ ٹرمپ کے غیر ملکی پروڈکشنز پر ٹیرف سے آگاہ ہوں گے، کیا یہ فلم ٹیرف کی زد میں آئے گی؟ اور اس کا کتنا فیصد حصہ بیرون ملک فلمایا گیا ہے؟
ٹام کروز نے اس کا جواب دیا اور کہا کہ ہم فلم کے بارے میں سوالات کا جواب دینا پسند کریں گے، شکریہ، موڈریٹر نے بھی اس جواب کی تائید کی اور کہا کہ میرے خیال میں اس سے زیادہ مناسب جواب نہیں ہوسکتا۔
ہالی ووڈ اداکار کے اس انداز کو انٹرنیٹ صارفین نے خوب سراہا اور کہا کہ فلم کی تشہیر کے دوران سیاست کو درمیان نہ لانا ایک منصفانہ اقدام ہے۔
ایک مداح نے ٹام کروز کا نام لے کر لکھا کہ میں نے اب تک آپ کے بارے میں جو کچھ بھی کہا تھا وہ واپس لیتا ہوں آپ واقعی شاندار انسان ہو۔
ایک اور تبصرے میں کہا گیا کہ ہوشیاری سے جواب دیا میں پیشہ وارانہ رویہ برقرار رکھنے والے سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ٹام کروز
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔