آسٹریلیا کے شان ٹیٹ بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باؤلنگ کوچ مقرر
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے آسٹریلیا کے سابق فاسٹ باؤلر شان ٹیٹ کو بنگلہ دیشی قومی ٹیم کا پیس بولنگ کوچ مقرر کیا ہے، 42 سالہ سابق آسٹریلوی کرکٹر اس ماہ کے آخر میں بنگلہ دیشی ٹیم کو جوائن کریں گے۔
شان ٹیٹ اس سے قبل پاکستان، ویسٹ انڈیز اور افغانستان کی قومی ٹیموں کے بولنگ کوچ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، تاہم انہوں نے نومبر 2027 تک کی میعاد کی شرط کے ساتھ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ساتھ معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے اہم بلے باز مشفق الرحیم کا ون ڈے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان
شان ٹیٹ بنگلہ دیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل)، بگ بیش لیگ (بی بی ایل)، پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل)، لنکن پریمیئر لیگ (ایل پی ایل) اور انگلش کاؤنٹی کرکٹ سمیت دنیا بھر کی مختلف اعلیٰ سطحی لیگوں اور مقابلوں میں کوچنگ کے فرائض بھی انجام دے چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: تعلقات نچلی سطح پر، بنگلہ دیش اور بھارت کے تجارت اور کھیل سے متعلق سخت فیصلے
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسٹریلوی کرکٹر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ بولنگ کوچ شان ٹیٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا سٹریلوی کرکٹر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ بولنگ کوچ شان ٹیٹ بنگلہ دیش شان ٹیٹ
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔