کراچی؛ مسجد کے باہر ٹرانسپورٹر کو قتل کرنے کی ویڈیو سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
کراچی:
گلشن اقبال میں مسجد کے باہر ٹرانسپورٹر کو فائرنگ کرکے قتل کے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی، فائرنگ کے واقعے کو تین روزگزر گئے لیکن اب تک واقعے کا مقدمہ درج نہ کیا جا سکا۔
تفصیلات کے مطابق جمعہ کو عزیز بھٹی تھانے کے علاقے گلشن اقبال بلاک 13 ڈی میں جامعہ مسجد غزالی کے باہر گھات لگائے نامعلوم مسلح ملزمان نے فائرنگ کرکے ٹرانسپورٹر 45 سالہ محمد اکرم کو قتل کیا تھا، واقعے کو تین روز گزر گئے لیکن اب تک واقعہ کا مقدمہ درج نہ کیا جا سکا۔
ارم گارڈن کے رہائشی مقتول محمد اکرم جامعہ مسجد غزالی میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد مسجد سے باہر نکلے تھے کہ مسجد کے باہر موٹر سائیکل پر گھات لگائے 3 نامعلوم مسلح ملزمان نے فائرنگ کی تھی۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی جس میں ہیلمٹ پہنے ایک ملزم کو موٹر سائیکل سے اتر کر مقتول محمد اکرم پر فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے، فائرنگ ہوتے ہی مسجد سے نکلنے والے نمازیوں میں بھگڈر مچتے اور انہیں جان بچاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
ملزم فائرنگ کرنے کے بعد اپنے ساتھیوں کے ہمراہ فرار ہو جاتا ہے جبکہ نمازیوں کی جانب سے مسلح ملزمان پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک شہری کو نامعلوم مسلح ملزمان پر فائرنگ کرتے بھی دیکھا جا سکتا ہے لیکن ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
پولیس نے ابتدائی تفتیش میں واقعے کو ذاتی دشمنی قرار دیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا تھا کہ مقتول محمد اکرم کا آبائی تعلق نارووال سے تھا، مقتول کے اہلخانہ تدفین کے بعد واپس آکر مقدمہ درج کروائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔