Islam Times:
2026-06-02@23:02:46 GMT

ٹرمپ کی طرف سے سیز فائر کا اعلان حیران کن ہے، کانگریس

اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT

ٹرمپ کی طرف سے سیز فائر کا اعلان حیران کن ہے، کانگریس

سچن پائلٹ نے کہا کہ یہ شاید پہلا موقع ہے کہ امریکہ کے صدر نے سوشل میڈیا پر سیز فائر کا اعلان کیا ہے، جبکہ اس سے پہلے امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کہا تھا کہ یہ انکا مسئلہ نہیں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پارٹی کے سینیئر لیڈر اور جنرل سکریٹری سچن پائلٹ نے کہا کہ حالیہ واقعات میں غیر معمولی تیزی آئی ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے سوشل میڈیا پر سیز فائر کا اعلان دنیا بھر کے لئے حیرت کا سبب بنا۔ سچن پائلٹ نے کہا کہ یہ شاید پہلا موقع ہے کہ امریکہ کے صدر نے سوشل میڈیا پر جنگ بندی کا اعلان کیا ہے، جبکہ اس سے پہلے امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کہا تھا کہ یہ ان کا مسئلہ نہیں ہے۔ تاہم صرف دو دن بعد امریکی صدر نائب صدر اور وزیر خارجہ نے یکے بعد دیگرے جنگ بندی کی بات کی اور بعد ازاں پاکستان اور ہندوستان کی طرف سے بھی اس کی تصدیق کر دی گئی۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ یہ معاملہ داخلی نوعیت کا ہے اور اسے بین الاقوامی رنگ دینا قابلِ قبول نہیں۔ اگر امریکہ کے کسی بیان میں کشمیر کا ذکر آتا ہے، تو یہ انتہائی حساس اور تشویشناک بات ہے۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ یہ ہزاروں سال پرانا مسئلہ ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تقسیم ہند کو ابھی 76 سال ہی ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے اس طرح کی مداخلت اور ثالثی کا اشارہ اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازعے کو دوبارہ عالمی مسئلہ بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا اس ثالثی کو ہندوستان نے قبول کیا اور اگر کیا تو کن شرائط پر۔ سچن پائلٹ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پہلگام حملے اور اس کے بعد کی صورتحال پر پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلایا جائے تاکہ ملک متحد ہو کر اپنا مؤقف عالمی برادری کے سامنے پیش کرے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 1994ء میں کانگریس حکومت نے پارلیمنٹ میں ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں پی او کے کو واپس لینے کی بات کی گئی تھی اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس قرارداد کو دہرا کر دنیا کو واضح پیغام دیں۔

سچن پائلٹ نے کہا کہ کانگریس ان شہریوں کے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کرتی ہے جو سرحد کے قریب شیلنگ یا دہشت گردانہ حملوں میں جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ انہوں نے ہندوستانی فوج کی بہادری کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنی فوج پر فخر ہے، جس نے ہر موقع پر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ملک کا دفاع کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینا چاہیئے، کیونکہ ہر پارٹی نے اختلافات بھلا کر حکومت کو دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں مکمل حمایت دی تھی۔ انہوں نے زور دیا کہ اس بار جب آل پارٹی میٹنگ بلائی جائے تو وزیراعظم کو خود موجود ہونا چاہیئے تاکہ تمام فریقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے فوری بعد بھی پاکستان کی طرف سے مسلسل سیز فائر کی خلاف ورزیاں ہوتی رہیں، جس سے اس اعلان کی ساکھ مشکوک ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جنگ بندی کے باوجود فائرنگ جاری رہی تو پھر اس کی کیا ضمانت ہے کہ مستقبل میں ایسی خلاف ورزیاں نہیں ہوں گی۔ سچن پائلٹ نے کہا کہ پاکستان کا سیاسی اور فوجی ڈھانچہ ہندوستان سے بالکل مختلف ہے، اس لئے اس طرح کے جنگ بندی معاہدوں پر اعتماد کرنا مشکل ہے جب تک کہ واضح ضمانتیں نہ دی جائیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان تمام سوالات کے جواب دے اور واضح کرے کہ کیا واقعی کسی بین الاقوامی دباؤ یا ثالثی کے تحت جنگ بندی کی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب تک ہماری گزشتہ کئی دہائیوں کی جو خارجہ پالیسی تھی، وہ بالکل واضح تھی۔ اس میں ثالثی، مذاکرات یا کسی تیسرے فریق کی شمولیت کی کوئی گنجائش نہیں تھی، چاہے وزیر اعظم کوئی بھی ہو یا حکومت کوئی بھی ہو لیکن امریکہ کے بیان کے بعد ان تمام باتوں پر سوال اٹھنا لازمی ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی لئے میں صرف اتنی اپیل کروں گا کہ حکومت کو فوری طور پر ایک آل پارٹی میٹنگ بلانی چاہیئے اور ہمارے فوجی جوانوں نے گزشتہ دنوں میں جو کارنامہ انجام دیا ہے، ہمیں اس پر بہت فخر ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ امریکہ کے کہا کہ یہ کی طرف سے حکومت کو کا اعلان سیز فائر

پڑھیں:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔

یکم جون کو جنوبی لبنان کے شہر صور میں ایک اسپتال کے قریب اسرائیلی حملے کے مقام پر امدادی کارکن اور ریسکیو اہلکار جمع ہیں۔

یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔

ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ

جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان