اے این ایف نے 16 کروڑ 54 لاکھ مالیت کی منشیات برآمد کرلی
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
اینٹی نارکوٹکس فورس نے کراچی سمیت ملک کے دیگرشہروں میں کارروائیاں کرتے ہوئے 16 کروڑ 54لاکھ روپے سے زائد مالیت کی منشیات تحویل میں لے لی۔
اے این ایف کے کراچی دفتر سے جاری اعلامیے میں ترجمان نے بتایا کہ تعلیمی اداروں اورملک کے مختلف شہروں میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔
اعلامیے کے مطابق کارروائیوں کے دوران 1943.
ترجمان اے این ایف کے مطابق ڈی ایچ اے ڈی ایچ اے کراچی (چھوٹا بخاری) میں 2 موٹر سائیکل سواروں سے 1 کلوگرام آئس برآمد کی گئی جبکہ بلوچستان کےعلاقے سارانان، ضلع پیشن میں حمید کراس کے قریب کارروائی کے دوران 1870 کلوگرام چرس برآمد کی گئی۔
اعلامیے کے مطابق کچی آبادی، پرانا چمن سے 20 کلوگرام افیون قبضے میں لی گئی، ایک اور کارروائی کے دوران پرانا پسنی روڈ، کوہِ مراد، کیچ کے قریب جھاڑیوں میں اسمگلنگ کے لیے چھپائی گئی 12 کلو ہیروئن برآمد کی گئی۔
اعلامیے کے مطابق سرائےعالمگیر، منڈی بہاؤالدین روڈ پر یونیورسٹی کے قریب ملزمان سے 12 کلو گرام چرس برآمد کی گئی، برآمد شدہ منشیات گاڑی میں مہارت سے چھپائی گئی تھی۔
اے این ایف نے بتایا کہ گرفتار ملزمان نے تعلیمی اداروں کے طلباء کو منشیات فروخت کرنے کا اعتراف کیا، کاک پل ایکسپریس وے اسلام آباد کے قریب کارروائی کے دوران ہائی ایس اورموٹرسائیکل میں سوارملزمان سے 12 کلو چرس برآمد کی۔
اس کے علاوہ آرسی ڈی روڈ حب میں مسافربس سے 10.8 کلو چرس، جنرل بس ٹرمینل پشاور کے قریب افغان باشندے سے 2 پنچنگ پیڈز میں چھپائی گئی 5 کلو آئس جبکہ شاہی قلعہ سرکلرروڈ لاہورکے قریب کارروائی کےدوران ملزمان سے 706 گرام کی 1124 ایکسٹسی گولیاں اور 200 گرام آئس برآمد کی گئی۔
مذکورہ کارروائیوں کے دوران ایک خٓاتون سمیت 14 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، جن کےخلاف انسداد منشیات ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرکےتحقیقات کا آغاز کردیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: برآمد کی گئی کارروائی کے اے این ایف کے مطابق کے دوران کے قریب
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔