کسی ایٹمی جنگ میں وسیع تباہی کا وہم
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
ہیروشیما ناگاساکی میں دو بموں کے ذریعے دو لاکھ انسانوں کی فوری اور پانچ لاکھ انسانوں کی تابکاری اثرات سے بتدریج ہلاکت نے اس کرہِ ارض پر جو خوف پیدا کیا اس کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہر ملک کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے اپنی عسکری ایٹمی لیبارٹریاں تلف کر دیتا یا کم از کم یہ عہد کر لیتا کہ آیندہ کبھی کوئی ریاست یورینیم اور پلاٹینیم کو ’’ ویپن گریڈ لیول تک ‘‘ افزودہ نہیں کرے گی۔
اس عہد کو یقینی بنانے کے لیے ہر ملک کا جوہری پروگرام مکمل طور پر اقوامِ متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی کمیشن ( آئی اے ای اے ) کی براہ راست نگرانی میں کام کرے گا تاکہ ایٹمی توانائی کو محض پرامن ترقیاتی مقاصد تک محدود رکھا جا سکے۔
مگر ہیروشیما ناگاساکی کا الٹا اثر ہوا اور تب تک بنے دو تین ایٹم بم گہرے دفن کرنے کے بجائے اتنے تیار کر لیے گئے جو اس کرہِ ارض جیسے چار اور سیاروں کو تباہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔ آج جوہری مونچھوں کو تاؤ دینے والی ریاستوں کی تعداد ایک سے بڑھ کر آٹھ ہو گئی ہے اور دیگر ممالک ان آٹھ کو خوف کے بجائے حسرت سے دیکھ رہے ہیں۔
اگر ایٹم بم میں ہی تحفظ تصور کر لیا گیا تھا تو پھر منطقی اعتبار سے روائیتی ہتھیاروں کو ختم کر دینا چاہیے تھا۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ آٹھوں ایٹمی طاقتوں کا روائیتی ہتھیاروں پر خرچہ اور انحصار کم ہونے کے بجائے ہزار فیصد بڑھ گیا۔دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اب تک دنیا بھر میں مسلح تصادموں ، خانہ جنگیوں اور بڑی جنگوں میں کل ملا کے جتنے انسان مارے گئے ہیں ان کی مجموعی تعداد دو عالمی جنگوں میں مرنے والوں کی تعداد سے کم ازکم بیس گنا ہے۔
ایٹم بم کی عمر تو خیر اسی برس ہے۔ اگر حساب لگالیں تو پچھلے ایک ہزار برس کی جنگوں میں کم از کم ایک ارب انسان قتل ہوئے۔گیارہویں و بارہویں صدی کی منگول جنگوں میں پانچ کروڑ یعنی تب کی عالمی آبادی کا پانچ فیصد قتل ہو گیا۔صلیبی جنگوں میں پچیس سے تیس لاکھ ، برازیل ، میکسیکو اور پیرو کی ہسپانوی فتوحات میں ڈیڑھ کروڑ ، مراٹھوں اور مغلوں کی دکنی جنگوں میں تقریباً بیس لاکھ ، انقلابِ فرانس اور نپولین کی جنگوں میں کل ملا کے ستر لاکھ ، امریکی خانہ جنگی میں دس لاکھ ، پہلی عالمی جنگ میں دو سے ڈھائی کروڑ اور ووسری عالمی جنگ میں پانچ کروڑ سے زائد ، کوریا کی جنگ میں تیس لاکھ ، جنگِ ویتنام میں چالیس لاکھ ، انیس سو سڑسٹھ تا ستر نائجیریا کی خانہ جنگی میں تیس لاکھ ، کانگو کی ستائیس برس سے جاری خانہ جنگی میں پچاس لاکھ سے زائد ،سوڈان کی تین خانہ جنگیوں میں پچاس لاکھ اور سوویت افغان جنگ میں دس لاکھ انسان قتل ہوئے۔یہ سیکڑوں خونی مثالوں میں سے صرف چند ہیں۔
مگر یہ سوچ برقرار ہے کہ بھلے روائیتی جنگوں اور اس کے براہِ راست و بلاواسطہ اثرات سے دنیا کی آدھی آبادی مر جائے لیکن ایٹمی جنگ نہ ہو۔
اس خوف کا سبب ایٹم بم نہیں انسانی نفسیات ہے۔مثلاً ہمارے اردگرد یا خاندان میں اگر ایک آدمی قتل ہو جائے تو یہ خبر ہے۔اگر دس ایک ساتھ قتل ہو جائیں تو یہ قومی خبر ہے۔اگر ایک ہی مقام پر سو آدمی قتل ہو جائیں تو یہ عالمی خبر ہے۔
اگر میں آپ سے کہوں کہ دنیا میں موت کے جو دس بڑے اسباب بتائے جاتے ہیں ان میں قتل اور جنگیں ہرگز شامل نہیں تو آپ کیا سوچیں گے ؟
دنیا میں سب سے بڑا قاتل دل سے جڑے امراض اور پیچیدگیاں ہیں۔تیرہ فیصد اموات اسی کارن ہوتی ہیں ( لگ بھگ ایک کروڑ )۔موت کے باقی نو بڑے اسباب میں شوگر ، کینسر ، الزائمر ، ٹی بی اور سانس کی پیچیدگیوں سمیت تمام تر طبی وجوہات شامل ہیں۔
انیس سو اٹھارہ کے اسپینش فلو سے دس کروڑ ، ایڈز سے گزشتہ چالیس برس میں ساڑھے چار کروڑ اور کوویڈ نائنٹین سے ساڑھے تین کروڑ اموات ریکارڈ ہوئیں۔کچھ عرصے پہلے تک بیماری سے مرنے کو بھی طبعی موت کے خانے میں رکھا جاتا تھا۔مگر آج بیشتر بیماریوں پر قابو پالیا گیا ہے ، پایا جا رہا ہے یا جلد پا لیا جائے گا۔چنانچہ اب یہ مفروضہ دفن ہو جانا چاہیے کہ بیماری سے موت بھی طبعی ہوتی ہے۔آلودہ پانی سے لگنے والی بیماریوں سے مرنے والے لاکھوں بچے آسانی سے بچائے جا سکتے ہیں۔مگر جنگوں کی ہلاکتوں کو حواس پر طاری کرنے والی ریاستیں اور شہری اسے تب مسئلہ سمجھتے ہیں جب ایک لاکھ بچے اسہال کے بجائے کسی جنگ میں ایک ساتھ یا چند ماہ میں مر جائیں۔
آپ نے کبھی سنا کہ کرہِ ارض پر بسنے والا کوئی اور جاندار اپنی ہی نسل کشی کا مجرم ہو۔ جنگل میں جب آگ لگتی ہے یا ریگستان میں طوفان آتا ہے تو ایک نسل کے جانور دوسری نسل کو پیشگی خبردار کر دیتے ہیں۔جانور صرف بھوک مٹانے کے لیے شکار کرتے ہیں۔کسی اور نسل یا اس کے علاقے کو غلام نہیں بناتے ، اجتماعی انتقام نہیں لیتے ، جلاوطن نہیں کرتے۔اس پرامن جنگلی حیات کا صرف ایک ہی مشترکہ دشمن ہیں یعنی ہم۔اور ہمارا کوئی جانور دشمن نہیں سوائے ہمارے۔پھر بھی جانور وہ ہیں اور ہم اشرف المخلوقات۔
انسان کی دماغی صحت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ وہ اپنے آپ سے بچنے کے لیے وہ وہ ہتھیار بناتا ، بیچتا اور جمع کرتا ہے جن کا بالاخر وہ خود شکار ہو جاتا ہے۔اور ایسے بھی ہتھیار بناتا ہے جنھیں ایک بار استعمال کرنے کے علاوہ کبھی استعمال نہیں کر سکا۔ جیسے ایٹم بم۔بھلا ایسے ہتھیار کس کام کے جو آپ کا بیشتر پیسہ بھی کھا جائیں اور پڑے سڑتے رہیں اور ان کی حفاظت کی لاگت تیاری کے خرچے سے بھی زیادہ ہو۔ایٹمی ہتھیار دراصل وہ خنجر ہے جسے بائیں ہاتھ میں پکڑ کے مخالف کو ڈرایا جائے اور پھر دائیں ہاتھ کے روائیتی گھونسے سے اس کی دھنائی کی جائے۔
اگر انسانوں کو واقعی کبھی نہتے اور پرامن انداز میں رہنا سیکھنا ہو تو تمام فیصلہ سازوں کو کسی اچھی جنگل یونیورسٹی میں جانوروں کے طرزِ زندگی اور ان کے جبلی تمدن کے کورس میں داخلہ لینا چاہیے۔جانوروں کو تو انسان اپنی راہ پر نہ چلا سکا۔ہو سکتا ہے جانور ہی اسے ماحول سے پرامن ہم آہنگی کے فوائد سمجھا سکیں۔
مگر ایسا شاید کبھی ممکن نہ ہو۔کیونکہ جانور یونیورسٹی آف نیچر کے تعلیم یافتہ اور کرہِ ارض کے اصل باسی ہیں۔فطین انسان نہ صرف کامن سینس سے عاری ہے بلکہ اس کرہِ ارض کے رہن سہن کے لیے اجنبی بھی ہے۔وماعلینا الا البلاغ…
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عالمی جنگ جنگوں میں کے بجائے ایٹم بم قتل ہو
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘حکومتی دعوﺅں کے برعکس حالیہ بارشوں میں پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے‘کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے‘ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا جبکہ 38 مکانات متاثر ہوئے.(جاری ہے)
پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے. ادھرمحکمہ موسمیات نے ملک بھر میں موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر تے ہوئے نشیبی علاقے زیر آب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ظاہر کیئے ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پورے ملک میں تیز ہواﺅں اور گرج چمک کے ساتھ بیشتر مقامات پر وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے. صوبائی دارلحکومت لاہور میں آج ہونے والی بارش سے واپڈا ٹاﺅن‘ جوہر ٹاﺅن‘ گلبرگ اور ڈیفنس ‘ او پی ایف سوسائٹی‘ ایل ڈی اے ایونیو‘ فیصل ٹاﺅن‘ماڈل ٹاﺅن‘علامہ اقبال ٹاﺅن‘مسلم ٹاﺅن‘گارڈن ٹاﺅن‘سبزہ زار‘ملتان روڈسمیت شہر بھر میں تیزبارش سے شہر کی مرکزی شاہرائیں ندیوں کا منظرپیش کرتی رہیں جبکہ شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی گھر میں داخل ہوگیا. شمالی لاہوراور اندرون شہر میں بھی بارش کی پانی کی وجہ سے معمولات زندگی شدید متاثرہوئے . محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں کے دوران بھی مزید بارش کا امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق شام کے وقت درجہ حرات 28ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ شہر میں 11 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں تاہم ہوا میں نمی کا تناسب 95 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث موسم مرطوب مگر خوشگوار محسوس کیا جا رہا ہے.