برسبین میں چالیس سال سے زیادہ عمر کے پاکستانی مردوں کیلئے دوڑ، کرکٹ اور والی بال کے شاندار میچز کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
برسبین ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی 2025ء ) آسٹریلیا کے شہر برسبین میں حال ہی میں چالیس سال سے زیادہ عمر کے پاکستانی مردوں کے لئے دوڑ، کرکٹ اور والی بال کے شاندار مقابلوں کا انعقاد کیا گیا، جس نے مقامی کھیلوں کی دنیا میں زبردست جوش و خروش پیدا کیا، یہ ایونٹ شہر کے متعدد حلقوں اور کھیلوں کے شوقین افراد کے لیے ایک منفرد اور زندگی بھر کی یادیں بنانے کا موقع تھا۔
تفصیلات کے مطابق دوڑ کا آغاز صبح سویرے ہوا، جہاں بڑی تعداد میں کھلاڑی اپنی بھرپور تیاری کے ساتھ موجود تھے۔ اس دوڑ میں مختلف کیٹیگریز کے شرکاء نے اپنی فٹنس کے جوہر دکھائے۔ بتایا گیا ہے کہ دوڑ کے بعد کرکٹ کے میچز کا آغاز ہوا، جہاں مختلف ٹیموں نے اپنے مہارتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاندار پرفارمنس پیش کی، کھلاڑیوں نے بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ میں اپنی بہترین قابلیت کا اظہار کیا، جس نے میدان میں دلچسپ صورتحال پیدا کی، ان میچز میں زبردست مقابلے دیکھنے کو ملے اور ہر ٹیم نے جیتنے کی پوری کوشش کی، اسی طرح والی بال کے میچز نے بھی شائقین کی توجہ خوب حاصل کی، کھلاڑیوں نے شاندار ٹیکنیک اور ہم آہنگی کے ساتھ کھیلتے ہوئے میچ کی شدت کو بڑھایا، رانا شاہد کی ٹیم نے سنسنی خیز مقابلہ کے بعد میدان مار لیا۔(جاری ہے)
بڑی تعداد میں موجود شائقین نے اس ایونٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے نا صرف کھیلوں کے شوقین افراد کے درمیان دوستانہ تعلقات کو فروغ دیا بلکہ نوجوانوں کے لئے بھی ایک مثال قائم کی کہ دوستی اور صحت مند مقابلہ زندگی کا لازمی حصہ ہونا چاہیئے، کھیلوں کے بعد شائقین اور کھلاڑیوں کی پاکستانی مزیدار ڈشیز کے ساتھ پُر تکلف دعوت بھی گی گئی۔ برسبین کے اس شاندار ایونٹ نے امید پیدا کی ہے کہ مستقبل میں بھی اس طرح کے مزید پروگرامز منعقد کیے جائیں گے، تاکہ شہر کے لوگوں کی صحت اور تفریح کو فروغ دیا جا سکے، شائقین نے عثمان حسن خان ، نوید ناصر ، منصور مرزا اور دیگر منتظمین کا دل سے شکریہ ادا کیا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔