تینوں بہنوں کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
—فائل فوٹو
بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان سے ان کی تینوں بہنوں کی راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ملاقات ہوگئی۔
بانیٔ پی ٹی آئی سے علیمہ خان، نورین خان اور عظمیٰ خان نے ملاقات کی۔
واضح رہے کہ آج پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی ) کے بانی عمران خان کی تینوں بہنوں کو ان سے ملاقات کی اجازت مل گئی تھی۔
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی ) کے بانی عمران خان کی تینوں بہنوں کو ان سے ملاقات کی اجازت مل گئی۔
اڈیالہ جیل انتظامیہ نے علیمہ خان، نورین خان اور عظمیٰ خان کو ملاقات کےلیے پیغام بھجوایا تھا جس کے بعد وہ اپنے بھائی سے ملنے اڈیالہ جیل پہنچی تھیں۔
بانیٔ پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر اور ظہیر عباس چوہدری بھی ملاقات کی اجازت ملنے کے بعد جیل کے اندر گئے تھے۔
بشریٰ بی بی کی بھابی مہرالنساء کو بھی ان سے ملاقات کی اجازت ملی تھی۔
اس موقع پر اڈیالہ جیل کے اطراف سیکیورٹی بہت سخت اور پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی تھی، جیل آنے جانے والے راستوں پر پولیس نے ناکے لگا دیے تھے۔
پولیس نے ناکے داہگل اور گورکھپور کے مقام پر لگائے اور جیل کی طرف جانے والی گاڑیوں کو چیکنگ کے بعد جانے دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سے ملاقات کی اجازت کی تینوں بہنوں اڈیالہ جیل پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو سٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔