متحدہ علماء محاذ کے تحت یکجہتی فلسطین و دفاع پاکستان سیمینار
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
اسلام ٹائمز: اپنے خطاب میں ممتاز شخصیات نے کہا کہ حماس، حزب اللہ، تحریک جہاد اسلامی و دیگر مقاومتی مجاہدین کی عظیم جدوجہد و قربانیاں کامیاب ہوگئیں، اسرائیل و اس کا سہولت کار امریکہ غزہ فلسطین کی جنگ ہار چکا ہے، اسرائیل کو بطور ریاست کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ متحدہ علماء محاذ پاکستان کے زیر اہتمام بانی سیکریٹری جنرل مولانا محمد امین انصاری کی میزبانی، مرکزی چیئرمین علامہ عبدالخالق فریدی سلفی کی زیر صدارت نیو سیکریٹریٹ گلشن اقبال میں یکجہتی فلسطین و دفاع پاکستان سیمینار میں شریک مختلف مکاتب فکر کے جید علماء مشائخ، سیاسی زعماء، اقلیتی رہنماؤں، وکلاء، دانشور و ممتاز شخصیات نے خطاب کرتے ہوئے 15 مئی کو اسرائیلی ریاست کے قیام، فلسطین پر جبری تسلط انسانیت سوز وحشیانہ مظالم کیخلاف یوم نکبہ جوش و جذبہ و ایمانی غیرت کے ساتھ منائے جانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ محاذ میں شامل علماء مشائخ و کارکنان یوم نکبہ کے حوالے سے کراچی پریس کلب پر مختلف جماعتوں کی جانب سے احتجاجی ریلیوں میں بھرپور شرکت اور قائدین خطاب کریں گے۔
سیمینار سے علامہ محمد حسین مسعودی، مولانا سلیم اللہ خان ترک، ڈاکٹر صابر ابومریم، علامہ محمد صادق جعفری،مسلم پرویز، علامہ سید محمد عقیل انجم قادری، علامہ خواجہ احمد الرحمن یار خان، علامہ پروفیسر ڈاکٹر سید شمیل احمد قادری حنبلی، پاسٹر عمانوئیل، ہندو مذہبی اسکالر ایجوکیشنسٹ منوج چوہان، مولانا منظرالحق تھانوی، مولانا مفتی محمد داؤد، قانونی مشیر ناصر احمد ایڈووکیٹ، استاذ القرأ مولانا قاری محمد اقبال رحیمی، مولانا مفتی وجیہہ الدین، علامہ مفتی عبدالغفور اشرفی، علامہ سید سجاد شبیر رضوی، علامہ محمد حسن شریفی، علامہ مرتضیٰ خان رحمانی سلفی، صاحبزادہ مولانا حافظ عبدالمجید، یعقوب احمد شیخ، علامہ سید علی امام فاطمی، مولانا پیر حافظ گل نواز خان ترک و دیگر نے خطاب کیا۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔