وزیرِ اعظم کا ترک صدر کی پاکستان کی حمایت اور یکجہتی کا خیر مقدم
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان—فائل فوٹوز
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ترک صدر رجب طیب اردوان کی پاکستان کی حمایت اور یکجہتی کا خیر مقدم کیا ہے۔
جاری کیے گئے بیان میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ترکیہ کے ساتھ دیرینہ، آزمودہ اور برادرانہ تعلقات پر پاکستان کو فخر ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہر نئے چیلنج کے ساتھ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں، صدر اردوان کی جنوبی ایشیاء میں امن کے فروغ کے لیے کوششیں قابلِ تعریف ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ بھارت سے کشیدگی کے دوران پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات کی تاریخ میں شاندار باب کا اضافہ ہوا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ترک صدر کا تعمیری کردار اور مشترکہ کاوشیں امن کی راہ ہموار کر رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ پاکستان اور ترکیہ مل کر روشن اور خوش حال مستقبل کی تعمیر کے لیے پُرعزم ہیں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا یہ بھی کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی اقوام کے درمیان مضبوط تعلقات خطے کے امن و ترقی کے ضامن ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اعظم شہباز شریف شہباز شریف نے اور ترک
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔