گلوکار نجم شیراز کی والدہ انتقال کرگئیں
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
پاکستان کے معروف گلوکار نجم شیراز کی والدہ سلطان جہان بیگم طویل علالت کے بعد کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں انتقال کرگئی ہیں۔ نجم شیراز اپنی والدہ کی تیمارداری کے لیے پچھلے کچھ عرصے سے عارضی طور پر کینیڈا میں مقیم تھے۔
نجم شیراز نے اپنی والدہ کے انتقال پر سوشل میڈیا پر جذباتی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ’’شوبز کی دنیا سے دین کی طرف آنے میں میری والدہ کی تربیت کا بڑا حصہ ہے۔‘‘
گلوکار نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ ’’میری والدہ نے میری ہمیشہ حوصلہ افزائی کی اور ان کی محبت، ایمان اور قدر دانی ہمیشہ یاد رہے گی۔ وہ میری زندگی کے مشن میں سب سے بڑی مددگار ثابت ہوئیں۔‘‘
View this post on InstagramA post shared by Najam Sheraz (@najamsherazofficial)
نجم شیراز کی والدہ کے انتقال کی خبر نے موسیقی کے حلقوں میں غم کی لہر دوڑا دی ہے۔ ان کے چاہنے والے اور ساتھی فنکاروں نے تعزیت کے پیغامات بھیجے ہیں۔ نجم شیراز نے اپنے کیریئر کے دوران کئی روحانی اور دینی نغمات پیش کیے ہیں، جن میں ان کی والدہ کی تربیت کے اثرات واضح نظر آتے ہیں۔
یہ مشکل وقت نجم شیراز اور ان کے خاندان کے لیے انتہائی کٹھن ہے، خاص طور پر اس لیے کہ وہ والدہ کی آخری رسومات بیرون ملک ادا کر رہے ہیں۔ فنکار کے چاہنے والوں نے دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور سوگوار خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔