غزل
جہاں سے بات چلی تھی وہاں تک آیا ہوں
مرا نہیں ہوں میں اپنے مکاں تک آیا ہوں
جو میرے اپنے تھے میں ان کے ذہن میں ہی رہا
یہ اجنبی ہیں میں جن کی زباں تک آیا ہوں
قدم بھی گھر سے نکالا نہ، سیر بھی کر لی
نہ دل پہ بوجھ ہے کوئی نہ جاں تک آیا ہوں
خدا کی گاڑی ہے دنیا یہ کب رکی ہے مگر
کرایہ دے کے ہی آیا جہاں تک آیا ہوں
نہ کوئی دوست ہے میرا نہ کوئی میرا عدو
نہ جانے کون ہوں میں اور کہاں تک آیا ہوں
گمان میں بھی نہیں تھا یقین کر لوں گا
یقین ہی نہیں آتا گماں تک آیا ہوں
مجھے پہاڑ کے شایان کچھ تو کرنا تھا
سو اک چھلانگ لگانے یہاں تک آیا ہوں
( احسان عبّاس۔ اسلام آباد)
غزل
غم یہ ہے صبر کا پہلو نہیں ملتا مجھ کو
لوگ ملتے ہیں مگر تو نہیں ملتا مجھ کو
مجھ کو بے حال کیا رسمِ عزاداری نے
آنکھ میں ایک بھی آنسو نہیں ملتا مجھ کو
تیرگی ایسی کہ اب خود سے بھی ڈر لگنے لگا
کوئی تارا کوئی جگنو نہیں ملتا مجھ کو
اک تعلق کے تعفن میں گھرا رہتا ہوں
کوئی بھی صورتِ خوشبو نہیں ملتا مجھ کو
کس طرح تجھ سے ملوں مجھ سے بچھڑنے والے
کوئی منتر کوئی جادو نہیں ملتا مجھ کو
میں بھٹکتا ہوں خیالات کے جنگل میں شفیقؔ
وہ تری یاد کا آہو نہیں ملتا مجھ کو
(شفیق احمد خان۔ لاہور)
غزل
تُو نہیں اور میسر تری خوشبو بھی نہیں
میری آنکھوں میں کوئی یاد کے جگنو بھی نہیں
مجھے رہ رہ کے ترا پھر سے خیال آتا ہے
جز ترے اور کوئی سوچ کا پہلو بھی نہیں
میرا من کرتا ہے اُس بت سے لپٹنے کو مگر
دل یہ کہتا ہے خبردار! اُسے چھو بھی نہیں
ٹھیک ہے عشق و محبت تو ہے سب اپنی جگہ
عزتِ نفس سے بڑھ کر تو مجھے تُو بھی نہیں
ہم ہیں ادراکِ غم عشق و جنوں کے مارے
دل میں طوفان ہے اور آنکھ میں آنسو بھی نہیں
پھر بھی رس گھولتی رہتی ہے زبانِ اردو
اتنی اچھی کوئی صادق ؔمری اُردو بھی نہیں
(محمد امین صادق ۔مانسہرہ)
غزل
تری زندگی کا سوال ہوں مجھے چھوڑدے
کسی وسوسے کا خیال ہوں مجھے چھوڑ دے
ترے ہجر نے مری زندگی کو گھٹا دیا
میں کہ ایک لمحے میں سال ہوں مجھے چھوڑدے
مرے ہاتھ میں کوئی ہاتھ ہے کسی پیڑ کا
میں سرشت میں کوئی جال ہوں مجھے چھوڑدے
کوئی وصفِ خاص نہ عام ہے مری ذات میں
تری گفتگو کا کمال ہوں مجھے چھوڑدے
میں ہوں راستے میں رکا ہوا کوئی اجنبی
تری عمر بھر کا ملال ہوں مجھے چھوڑدے
کروں فیضیؔ کیسے موازنہ تری ذات سے
تُو عروج ہے، میں زوال ہوں، مجھے چھوڑ دے
(سید فیض الحسن فیضی کاظمی۔ پاکپتن)
غزل
میرے ہر ایک خواب کو مر جانا چاہیے
الزامِ قتل آپ کے سر جانا چاہیے
کتنا حسیں ہے شہرِ نشاطِ خیال بھی
کچھ دیر ہم کو واں بھی ٹھہر جانا چاہیے
جتنے مرے عزیز تھے دل سے اتر گئے
تجھ کو بھی میرے دل سے اتر جانا چاہیے
افسردگی نہ بھی ہو یہ رسمِ جدائی ہے
دل کو تڑپنا آنکھ کو بھر جانا چاہیے
گزرا ہے آج پاس سے وہ اجنبی کی طرح
ہم کو بھی بے خبر ہی گزر جانا چاہیے
مثلِ چراغ جلتے ہوئے تجھ کو بھی فرازؔ
ہے تیرگی جدھر بھی ادھر جانا چاہیے
(فراز احمد فراز۔ کنجروڑ، نارووال )
غزل
جن کے چہرے مرے آئینے میں گلفام رہے
اپنی پہچان میں وہ آج تلک خام رہے
ایک مصرع دمِ آخر کہوں گا قاتل پر
مجھ پہ احسان ہو، اس پر مرا الزام رہے
میرے ویران بدن میں کوئی خوشبو جاگے
میرے آنگن میں تری خاک کا بھی کام رہے
یہ بھی ممکن ہے کہ منزل کبھی مل جائے مجھے
پھر بھی رستے میں تری یاد کی اک شام رہے
قافلہ چھوڑ گیا، شوق مگر زندہ ہے
کبھی منزل، کبھی صحرا مرے ہم نام رہے
شب گزاری میں بھی اک شعلۂ امید رہے
میرے بستر پہ تری یاد کا احرام رہے
(زبیر احد۔فیصل آباد)
غزل
گماں کے وار سے اس بار ہو گیا ہوگا
محل یقین کا مسمار ہو گیا ہوگا
نظر اٹھی ہے کسی اور کی طرف اس کی
ہمارا ثانوی کردار ہو گیا ہوگا
دیے سے خاص لگاؤ اسے تو ہونا ہے
جو روشنی کا طرفدار ہو گیا ہوگا
وہ پیڑ جس سے ہمیں سایہ تک نہ ملتا تھا
کسی کے واسطے پھلدار ہو گیا ہوگا
کسی کسی کو غنیمت ہے کار تنہائی
کسی کسی کو یہ آزار ہو گیا ہوگا
وہ ایک خواب اجیرن تھی زندگی جس سے
پڑے پڑے یونہی بے کار ہو گیا ہوگا
سفر کو نکلے تھے کچھ اور لوگ بھی عاطرؔ
کسی مقام پہ انکار ہو گیا ہوگا
(عمر عاطر۔میٹروول سائٹ ٹاؤن، کراچی)
غزل
دور ہو مدت سے لیکن دل یہ بولے آج بھی
تم فقط سر ہی نہیں ہو میرے سر کا تاج بھی
اب بھی کیا تم کو وفاؤں کا یقیں آیا نہیں؟
رکھ دی قدموں میں تمہارے اب تو شرم و لاج بھی
کس قرینے سے محبت روح میں کرتی ہے گھر
ہم ہیں کیا، محفوظ رہتے جب نہیں الحاج بھی
یہ مرا اقرار ہے بھائی مرے تو یاد رکھ
تجھ سے مانگوں گا نہیں گر ہو گیا محتاج بھی
باندھ لو پلّے سے اپنے بات ہے یہ کام کی
خاکساری آدمیت، عاجزی معراج بھی
اے مرے حسرتؔ ترے دل میں وفاؤں کا نگر
کر دیا آباد جس نے، خود کرے تاراج بھی
(رشید حسرت۔ کوئٹہ)
غزل
زندگی، جیت کے ہاری ہو تو دھوم مچے
عشق کی یا بیماری ہو تو دھوم مچے
اس کی زلف سا جگ میں کوئی سیاہ نہیں
رات نے ہمت ماری ہو تو دھوم مچے
وہ درویش نہیں ہے، بس دکھلاوا ہے
اُس پہ وحشت طاری ہو تو دھوم مچے
یہ کیا کوئی گزرے لوگ خموش رہیں
یہ کیا اس کی لاری ہو تو دھوم مچے
وہ جو لکھنے بیٹھے لفظ مہکتے ہیں
کسی میں یہ فنکاری ہو تو دھوم مچے
اپنے عشق کے بارے گاؤں جانتا ہے
صرف یہ وقت گزاری ہو تو دھوم مچے
شعر اربابؔ کے اچھے ہیں پر کوئی شعر
دل کی بات سے بھاری ہو تو دھوم مچے
(ارباب اقبال بریار ۔واہنڈو ،گوجرانوالہ)
غزل
اخوّت کے سبھی جذبے گئے پیروں تلے کچلے
ہمارے سارے منصوبے گئے پیروں تلے کچلے
یہاں پر علم کے دشمن مسلّح بھی تھے وافر بھی
جہالت کی طرف حملے گئے پیروں تلے کچلے
ہمیں تھے جو میسّر دل کو بہلانے کی خاطر سو
مسرّت کے وہی لمحے گئے پیروں تلے کچلے
بہاریں جن سے تھیں خنداں چمن جن سے تھاروح افزا
وہی بلبل ،وہی نغمے ،گئے پیروں تلے کچلے
ابھی تک لاج رکھ لی تھی مگر محبوبؔ سے آخر
ہمارے درمیاں وعدے گئے پیروں تلے کچلے
(محبوب الرّحمان محبوب۔سینے،میاندم،سوات)
غزل
درد کی دوڑ میں ہوا تنہا
میرا دل ٹوٹتا رہا تنہا
خواب کے قافلے کھڑے تھے خموش
اور میں صحرا میں دوڑتا تنہا
رات کی اوٹ میں چراغِ دل
وصل کی خومیں بجھ گیا تنہا
بارِ غم تھا ہوا کے ہاتھوں میں
یاد کا پھول کھل گیا تنہا
یاد کی گرد آنکھ پر چھائی
اور میں دیکھتا رہا تنہا
خود سے لڑنے کی آرزو میں تھا
آئینہ ٹوٹتا رہا تنہا
حُسنِ دنیا فریب تھا لیکن
دل وفا ڈھونڈتا رہا تنہا
زندگی اک سوال سب کے لیے
میں اسے بس گزارتا تنہا
زخم کی لوح پر لکھا غم سے
کچھ نہ کچھ کھوجتا رہا تنہا
سیف غم کی مسافری میں تو
اک صدا بن کے رہ گیا تنہا
(سیف علی عدیل۔ اسلام آباد)
غزل
یہ جو سینے میں لیے پھرتا ہوں بیکار کا دکھ
اس پہ رولوں؟ جو نہیں ہے مرے معیار کا دکھ
دونوں غم ایک ترازو پہ نہ رکھ ،فرق سمجھ
مجھ کو اپنوں کا ہے شکوہ تجھے اغیار کا دکھ
میری آشفتہ مزاجی کو محبت سے نہ جوڑ
مسئلہ عشق نہیں،مجھ کو ہے گھر بار کا دکھ
ہم جیے آنکھ میں خوں ریز مناظر لے کر
مر گئے بھی تو رہا ہونٹ پہ اظہار کا دکھ
سینہ چھلنی بھی اذیت نہیں دیتا اتنی
جتنا ہوتا ہے مجھے پیٹھ پہ اک وار کا دکھ
داد دی سب نے تجھے دام کی فنکاری پر
کوئی سمجھا ہی نہیں تیرے گرفتار کا دکھ
(نظیر ساگر۔اپر کوہستان،خیبر پختونخوا)
سنڈے میگزین کے شاعری کے صفحے پر اشاعت کے لیے آپ اپنا کلام، اپنے شہر کے نام اورتصویر کے ساتھ ہمیں درج ذیل پتے پر ارسال کرسکتے ہیں۔ موزوں اور معیاری تخلیقات اس صفحے کی زینت بنیں گی۔
انچارج صفحہ ’’کوچہ سخن ‘‘
روزنامہ ایکسپریس، 5 ایکسپریس وے، کورنگی روڈ ، کراچی
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نہیں ملتا مجھ کو ہو گیا ہوگا تک ا یا ہوں جانا چاہیے بھی نہیں رہا تنہا میں کوئی کا دکھ
پڑھیں:
ناتمام (آخری قسط)
ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘
’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘
مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔
ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘
پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"
پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔
بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘
کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔
پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔
الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔
کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔
’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘
ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔