میری سزائیں پہلے سے طے شدہ ہیں، مقدمات کا بہادری سے سامنا کروں گا، عمران خان
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
اڈیالہ جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے کہا ہے کہ ان کے خلاف دی جانے والی سزائیں اور عدالتی فیصلے پہلے سے طے شدہ ہیں۔ ان کاکہناہے کہ وہ جانتے ہیں کہ اس تمام عمل کے پیچھے ایک تیار شدہ اسکرپٹ ہے۔
عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بھائی کو پہلے دن سے کہا جا رہا ہے کہ وہ ملک چھوڑ دیں، مگر عمران خان نے دوٹوک الفاظ میں جواب دیا کہ وہ تمام مقدمات کا سامنا کریں گے اور کہیں نہیں جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ جیل ٹرائل کے دوران ایک گواہ جھوٹا ثابت ہو چکا ہے، اور بار بار ان کے کیسز کی سماعت ملتوی کی جاتی ہے۔ اب بڑی مشکل سے القادر ٹرسٹ کیس کی اگلی تاریخ ملی ہے۔
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کو القادر کیس میں فوری ضمانت ملنی چاہیے، لیکن لگتا ہے کہ سب کچھ ایک مخصوص اسکرپٹ کے مطابق ہو رہا ہے: پہلے توشہ خانہ کیس میں سزا دی جائے گی، پھر القادر میں ضمانت دی جائے گی۔
ملک میں جاری سیکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے علیمہ خان نے بتایا کہ عمران خان تیراہ میں شہید ہونے والے نوجوانوں پر شدید رنجیدہ ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں فوجی آپریشن مسئلے کا حل نہیں بلکہ شدت پسندی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
عمران خان کا یہ بھی مؤقف ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کو جان بوجھ کر ایک “ٹریپ” میں دھکیلا گیا تاکہ آپریشن کا سیاسی بوجھ صوبے پر آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں عوام میں ناراضگی اور نفرتیں بڑھ رہی ہیں، اور افغانستان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کر کے معاملات بگاڑے جا رہے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ افغانستان سے بات چیت کے ذریعے ہی پائیدار امن ممکن ہے، کیونکہ ان کی سابقہ حکومت نے بھی افغان قیادت سے مذاکرات کے ذریعے امن قائم کیا تھا۔ اب بھی یہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے، اور دونوں ممالک کی حکومتوں اور عوام کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھنا ہوگا۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
کابینہ کمیٹی برائے متعدی امراض، ڈینگی و ڈیزاسٹر منیجمنٹ کا اجلاس لاہور میں ہوا، پنجاب کے وزرائے صحت سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر نے اجلاس کی صدارت مشترکہ طور پر صدارت کی۔
اس موقع پر پنجاب کے وزرائے صحت نے کہا کہ ڈینگی کے افزائش والے اضلاع پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، صوبے بھر میں ڈینگی کی تازہ صورتحال پر قابو پانے کیلیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر نے متعلقہ افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت کی۔ انھوں نے کہا ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ جون جولائی میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں۔
خواجہ عمران نذیر نے کہا ڈینگی وائرس پر قابو پانے کے اقدامات کسی ایک محکمہ کی ذمہ داری نہیں، اقدامات کی ذمہ داری تمام اسٹیک ہولڈرز کی ہے۔
خواجہ عمران نے سی ای او ہیلتھ کو ضلعی انتظامیہ کیساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی۔
انھوں نے کہا کہ ایچ آر منیجمنٹ، والنٹیر ماڈل کو اپناتے ہوئے ڈینگی کا خاتمہ ممکن ہے، یونیورسٹی اور کالجز کے طلبہ کو انسداد ڈینگی کی کارروائیوں میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
خواجہ سلمان رفیق نے کہا ڈینگی کی بوگس سرویلنس ناقابل برداشت ہے، عوام اپنےگھروں، دکانوں اور دیگر مقامات پر صفائی کویقینی بنائیں