UrduPoint:
2026-06-02@22:55:06 GMT

چین میں آن لائن ’منفی مواد‘ کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن

اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT

چین میں آن لائن ’منفی مواد‘ کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 27 ستمبر 2025ء) چین میں انٹرنیٹ کے نگران ادارے سائبر اسپیس ایڈمنسٹریشن آف چائنا نے ملک بھر میں دو ماہ پر محیط ایک مہم چلا رکھی ہے، جس کا مقصد ایسے آن لائن مواد کو روکنا بتایا گیا ہے، جو معاشرے میں تشدد یا دشمنی کو فروغ دیتا ہے۔ حکام کے مطابق اس مہم میں ملکی معیشت کے خلاف مایوس کن تبصرےکرنے والوں کے خلاف کارروائی بھی شامل ہے۔

پیر تئیس ستمبر سے جاری یہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب رواں برس چین کی معیشت دباؤ کا شکار رہی ہے اور نوجوانوں میں بے روزگاری کا مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔

سائبر اسپیس ایڈمنسٹریشن آف چائنا کا کہنا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ٹرینڈنگ ٹاپکس، ریکمنڈیشنز اور کمنٹس سیکشنز کی سخت جانچ کرے گی۔

(جاری ہے)

ان کے مطابق ''مسائل پیدا کرنے والے‘‘ مواد میں فین گروپس کو لڑانے والی پوسٹس، 'ڈاکسنگ‘ کے طریقے بیچنے یا سکھانے والے مواد کے ساتھ ساتھ افواہیں اور ''سنسی خیز سازشی نظریات‘‘ شامل ہیں۔

اس ریگولیٹری ادارے نے واضح کیا کہ ایسے تبصروں کو بھی ہدف بنایا جائے گا جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ''محنت بیکار ہے‘‘ یا ''پڑھائی بیکار ہے،‘‘ یا جو کسی انفرادی منفی واقعے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہوئے زندگی کے بارے میں مایوس کن تاثر دیتے ہیں۔

چین میں پہلے ہی آن لائن مواد پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ اگرچہ مغربی پلیٹ فارمز بھی صارفین کے رویے کو ریگولیٹ کرتے ہیں، مگر چین میں یہ نگرانی کہیں زیادہ وسیع اور سخت ہے۔

حکام کے مطابق ان کا مقصد معاشرے میں بگاڑ اور عوامی بے چینی کو روکنا ہے۔

یہ حکومتی اعلان اس واقعے کے ایک روز بعد کیا گیا، جس میں بیجنگ پولیس نے ان تین افراد کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا، جو مشہور اداکار یو مینگ لونگ کی موت کے بارے میں جھوٹی خبریں پھیلا رہے تھے۔ پولیس کے مطابق اداکار شراب نوشی کے بعد گر کر ہلاک ہوئے لیکن گرفتار ملزمان نے جعلی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر پھیلائیں اور ''عوامی نظم کو بری طرح متاثر کیا۔‘‘

ادارت: عاطف توقیر

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے مطابق چین میں

پڑھیں:

بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔

ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد