، برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا نے فلسطینی ریاست کو باضابطہ تسلیم کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا نے فلسطین کو ایک خودمختار اور آزاد ریاست کے طور پر باضابطہ تسلیم کر لیا ہے۔
وزیراعظم انتھونی البانیز نے یہ اعلان نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور مشرق وسطیٰ میں دو ریاستی حل سے متعلق اہم کانفرنس کے موقع پر کیا، یہ اقدام برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ سامنے آیا۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے پر اسرائیل کا مغربی کنارے کو قبضے میں لینے پر غور
انتھونی البانیز نے کہا کہ آسٹریلیا فلسطینی عوام کی ’اپنی ریاست کے قیام کی جائز اور دیرینہ خواہشات‘ کو تسلیم کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فلسطینی اتھارٹی کو سفارتخانہ قائم کرنے اور فعال تعلقات کے لیے بین الاقوامی برادری کی شرائط پوری کرنا ہوں گی، جن میں اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنا، جمہوری انتخابات کرانا اور مالیات و گورننس میں اصلاحات شامل ہیں۔
امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے قریبی اتحادیوں نے اس فیصلے پر سخت ردعمل دیا ہے اور آسٹریلیا سمیت دیگر ممالک کو ’سزائی اقدامات‘ کی دھمکیاں دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اب تک کتنے ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم یا اس کا اعلان کرچکے؟
اس کے برعکس انتھونی البانیز اور وزیر خارجہ پینی وونگ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی قیادت مشرق وسطیٰ میں ’قابل اعتبار امن منصوبے‘ کے لیے اہم ہے اور امریکا و عرب لیگ غزہ کی تعمیر نو اور اسرائیل کی سلامتی کی ضمانت دے سکتے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے آسٹریلوی فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور البانیز کو ’کمزور‘ لیڈر قرار دیا۔ انہوں نے اس اقدام کو ’’رعایت‘‘ قرار دیتے ہوئے ہٹلر کے 1938 میں چیکوسلواکیہ پر حملے سے تشبیہ دی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا یا نہیں؟ واشنگٹن نے بتا دیا
دوسری جانب عالمی سطح پر اسرائیل تنہا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن نے گزشتہ ہفتے غزہ میں نسل کشی کے واقعات کی نشاندہی کی اور نیتن یاہو سمیت سینئر اسرائیلی رہنماؤں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا، تاہم اسرائیل نے اس رپورٹ کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
آسٹریلیا کے اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت کے اس فیصلے کو قبل از وقت قرار دیا اور کہا کہ جب تک حماس غزہ پر قابض ہے اور اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہیں کرتا، فلسطینی عوام کو جمہوری خود حکمرانی کی کوئی امید نہیں مل سکتی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فلسطینی ریاست کو کو تسلیم
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔