فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کی لہر تیز کریں گے، ترک صدر
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
استنبول: ترک صدر رجب طیب اردوان کاکہنا ہے کہ رواں ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کئی ممالک کی جانب سے فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا فیصلہ، دو ریاستی حل کے عملی نفاذ کو تیز کرے گا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق ترک صدر نے کہاکہ اس بار جنرل اسمبلی کا اجلاس پچھلے برسوں سے مختلف ہے کیونکہ اس دوران فلسطین کی ریاستی حیثیت تسلیم کرنے کے اہم فیصلے سامنے آئیں گے۔
شام کے صدر احمد الشرع کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے حوالے سے ترک صدر نے کہا کہ انقرہ دمشق کو تنہا نہیں چھوڑے گا اور اپنے ہمسایہ ملک کو مضبوط بنانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گا۔
صدر اردوان نے مزید بتایا کہ انہیں نیویارک میں واقع ترک ایوی سینٹر، جسے ترک ہاؤس بھی کہا جاتا ہے، میں شامی صدر الشرع سے ملاقات کا موقع ملے گا۔
واضح رہےکہ عالمی سطح پر فلسطینی عوام کے حق میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں، مگر دوسری طرف غزہ میں امریکا اور اسرائیل امداد کے نام پر دہشت گردی کر رہے ہیں اور عالمی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں جبکہ مسلم حکمران بھی کھلی بے حسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔