فلسطینی صدر امریکی ویزے سے محروم ، یو این اجلاس میں ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیو یارک: امریکا کی جانب سے ویزا جاری نہ کیے جانے کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر محمود عباس کو جنرل اسمبلی کے آئندہ ہفتے ہونے والے اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کئی ممالک کی جانب سے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کے اعلانات کے بعد امریکا نے محمود عباس کو نیویارک میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا دینے سے انکار کیا۔
فلسطینی قیادت نے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے منافی اقدامات کر رہا ہے۔
دوسری جانب یورپی ملک پرتگال نے فلسطین کو باضابطہ طور پر ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
پرتگال کے وزیر خارجہ نے چند روز قبل برطانیہ کے دورے کے دوران عندیہ دیا تھا کہ ان کا ملک اس حوالے سے غور کر رہا ہے، تاہم اب وزارتِ خارجہ کی جانب سے باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے اجلاس سے قبل عالمی سفارتی محاذ پر بڑی تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ کینیڈا، فرانس، برطانیہ، بیلجیم اور آسٹریلیا سمیت کئی مغربی ممالک بھی جلد فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کرنے والے ہیں۔ ان فیصلوں کو فلسطینی عوام کی دیرینہ جدوجہد کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکا کی پالیسیوں کو عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مخالفت کا سامنا ہے۔
واضح رہے کہ رواں برس کے دوران متعدد ممالک فلسطین کو تسلیم کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں، جس سے نہ صرف اسرائیل پر سفارتی دباؤ بڑھ رہا ہے بلکہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے عالمی حمایت میں بھی اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تسلیم کرنے فلسطین کو رہا ہے
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔