مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے حل کے بغیر دنیا کا امن ادھوار ہے: آصف زرداری
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
(ویب ڈیسک )صدر مملکت آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے مسائل حل کیے بغیر دنیا کا امن ادھورا ہے۔
عالمی یومِ امن پر پیغام جاری کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ عالمی یومِ امن محض جنگ نہ ہونے کا نہیں، انصاف و مساوات کے فروغ کا دن ہے، پاکستان عالمی و علاقائی امن میں بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کے دنیا کی متحارب قوتوں کے ساتھ متوازن تعلقات ہیں اور عالمی برادری پاکستان کو مسائل کے حل کا شریکِ کار تسلیم کرتی ہے۔
جلد کے ٹیٹوز سے اکتا کر چینی نوجوان دانتوں پر ٹیٹوز بنوانے لگے
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ عالمی امن اور انصاف کے لیے آواز بلند کی ہے، ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو نے عالمی امن کے لیے جرات مندانہ کردار ادا کیا۔
صدر زرداری نے کہا کہ اقوام متحدہ امن مشنز میں پاکستان کی طویل خدمات ہیں، پاکستان نے آفات اور تنازعات کے متاثرین کی ہمیشہ مدد کی، نوجوان نسل کو برداشت، رواداری اور مکالمے کی اقدار اپنانا ہوں گی۔
صدر مملکت کا کہنا تھا کہ دنیا ہتھیاروں کے بجائے مکالمے اور تعاون کو ترجیح دے، پاکستان پرامن، انصاف پر مبنی اور پائیدار دنیا کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
بنگلادیش کرکٹ بورڈ میں پہلی مرتبہ خاتون سلیکٹر کا تقرر
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔