مولانا فضل الرحمٰن کا حکومت سے اے پی سی بلانے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
مولانا فضل الرحمٰن—فائل فوٹو
جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت سے موجودہ حالات کے حوالے سے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلانے کا مطالبہ کر دیا۔
ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ بھارت نے پورے خطے میں تناؤ پیدا کر دیا ہے، بھارت میں اپوزیشن، مسلمانوں اور سکھوں نے مودی کا ساتھ نہیں دیا۔
یہ بھی پڑھیے فضل الرحمٰن نے گرینڈ الائنس میں شامل ہونے سے انکار کردیا، PTIمولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ حکومت کو موجودہ حالات میں اے پی سی بلانی چاہیے، خارجہ معاملات میں افغانستان کے ساتھ دوستی کرنے کا وقت ہے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ نریندر مودی بھارت میں غیر مقبول ہو چکے ہیں، مودی کی ہندوتوا کارڈ استعمال کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔
جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمٰن کا یہ بھی کہنا ہے کہ نریندر نے سرینڈر کر دیا، شکست کے بعد مودی کواستعفیٰ دینا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحم ن
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت کتنی ہونی چاہیے؟ نئے مالی سال کے لیے سفارش کردی گئی
نئے مالی سال کے لیے کم از کم اجرت مقرر کرنے کے حوالے سے نئی سفارش سامنے آ گئی۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے مالی سال 27-2026 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی باضابطہ سفارش کر دی ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق پائیڈ نے اپنے شواہد پر مبنی فریم ورک کے ذریعے موجودہ 40 ہزار روپے کی تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ یہ تجویز قومی سطح پر ملازمین کے مالی حالات کو بہتر بنانے اور معاشی استحکام کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کم از کم اجرت کا تعین اب صرف محکمۂ محنت کا داخلی معاملہ نہیں رہا، بلکہ یہ فیصلہ ملکی معیشت کے وسیع تر پہلوؤں پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس میں شہریوں کی قوتِ خرید، غربت کی شرح، غیر رسمی روزگار اور مقامی طلب جیسے اہم عوامل شامل ہیں۔
ادارے نے مزید واضح کیا کہ تنخواہوں میں یہ ردوبدل پیداواری ترغیبات بڑھانے اور سماجی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ اپریل 2026 میں سال بہ سال بنیادوں پر افراطِ زر کی شرح 10.9 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔