بھارتی وزیراعظم نریندرامودی کا پاکستان سے مار کھانے کا اعتراف سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
بمبئی (اوصاف نیوز)بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے اپنے کئی ایئر بیسز، ائیر فیلڈز، طیارے اور ڈرونز کی تباہی کے بعد ڈھکے چھپے الفاظ میں پاکستان کے ہاتھوں مار کھانے کا اعتراف کرلیا ہے۔
نریندرا مودی نے منگل کو ایکس پر جاری اپنی ایک ٹوئٹ میں بھارتی تباہی کے بعد دل شکستہ عوام اور شکست خوردہ بھارتی فوج کی دل جوئی کی ناکام کوشش کی۔
مودی نے لکھا، ’ان تمام لوگوں کے لیے جو اپنے نمبروں پر تھوڑا مایوس محسوس کر رہے ہیں، میں کہنا چاہتا ہوں: ایک امتحان کبھی بھی آپ کی پہچان کا پیمانہ نہیں ہو سکتا۔ آپ کا سفر اس سے کہیں بڑا ہے، اور آپ کی صلاحیتیں مارک شیٹ سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ پُراعتماد رہیں، جستجو برقرار رکھیں، کیونکہ آپ کے لیے عظیم کامیابیاں منتظر ہیں۔‘
ان کے اس بیان میں نمبروں پر مایوسی سے مراد بھارتی فوجیوں کی ہلاکتوں، طیاروں اور دفاعی تنصیبات کی تباہی سے پھیلی مایوسی ہوسکتا ہے۔
بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مودی اپنے ان الفاظ سے جاننا چاہ رہے ہیں کہ بھارتی عوام کیا ردعمل دیتے ہیں، کیونکہ ابھی بھارتی فوج کو اپنے جانی نقصانات کا اعلان بھی کرنا ہے، اگر مودی نے طیاروں کی تباہی تسلیم نہ کی اور جانی نقصان کا اعلان نہ کیا گیا تو بھارتی فوج میں ردعمل آسکتا ہے۔
پاک فضائیہ کے ہاتھوں جگ ہنسائی اور رسوائی کے بعد مودی کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں مل رہی۔ اپنی خفت مٹانے کیلئے کبھی وہ کسسی ائیر فیلڈ پر جاکر فوٹو شوٹ کروا رہے ہیں تو کبھی سیز فائر کے باوجود دوبارہ جنگ چھیڑنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
عالمی ہزیمت کے بعد کئے گئے اپنے پہلے خطاب میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف اپنی فوجی کارروائی کو صرف ”عارضی طور پر روکا“ ہے۔
بدھ کے روز نئی دہلی میں خطاب کرتے ہوئے ہندو قوم پرست رہنما نریندر مودی نے کہا کہ اگر بھارت پر مستقبل میں کوئی ”دہشت گرد حملہ“ ہوا تو بھارت ”اپنی شرائط پر جوابی کارروائی کرے گا“۔
جنید اکبر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ سے مستعفی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔