پاکستان کے ساتھ ملکر 6 ممالک نے بھارت پر سائبر حملہ کیا،بھارتی میڈیا کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ’آپریشن سندور‘ کے دوران صرف بھارت مغربی کی سرحد ہی نہیں بلکہ سائبر اسپیس میں بھی شدید حملے کیے گئے۔ ٹائمز آف انڈیا نے سائبر سیکیورٹی ماہرین کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان، ترکی، بنگلہ دیش، ملیشیا، انڈونیشیا اور چین کے حمایت یافتہ ہیکرز اور ہیکٹیوسٹ گروپس نے بھارتی ڈیجیٹل نظام کو نشانہ بنایا۔
بھارتی اخبار کے مطابق ان حملوں کا ہدف دفاعی ادارے، ان کے ایم ایس ایم ای وینڈرز، اور اہم بنیادی ڈھانچے جیسے بندرگاہیں، ہوائی اڈے، بجلی کے گرڈز، ریلوے اور ایئرلائنز جیسی ٹرانسپورٹ سروسز، بی ایس این ایل جیسے ٹیلیکوم ادارے، یو پی آئی، ڈیجیٹل والٹس، اسٹاک ایکسچینجز اور وہ بڑے بھارتی گروپس تھے جن کی سرمایہ کاری انفرااسٹرکچر میں ہے۔
حملے کا مقصد بھارت کو عالمی سطح پر شرمندہ کرنا اور دفاعی نظام، خاص طور پر میزائل پروگرام سے متعلق حساس معلومات چُرانا تھا۔ انٹرپول ٹرینر اور سائبر فارنزک ماہر پینڈیالا کرشنا شاستری کے مطابق یہ حملے پاکستانی سائبر گروپس کی قیادت میں چلائی جانے والی منظم مہم کا حصہ تھے۔
ان گروپس نے مالویئر، فشنگ اٹیکس اور ڈینائل آف سروس حملوں کے ذریعے مالیاتی، توانائی، ٹیلیکوم، اور پبلک سروس سیکٹرز کو نشانہ بنایا۔
ویب سائٹ Zone-H، جو ویب سائٹس کی ہیکنگ کی نگرانی کرتی ہے نے بھارتی سرکاری ڈومینز کی ڈیفیسمنٹ کے کئی واقعات رپورٹ کیے۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف واٹر اسپورٹس (niws.
منگل کے روز سنٹرل کول فیلڈز لمیٹڈ (CCL) کی ویب سائٹ پر بھی ایک بڑا تکنیکی خلل پیدا ہوا جہاں ”Mr. Habib 404“ نامی ایک ہیکر کی جانب سے پیغام دیا گیا: ”آپ نے سوچا آپ محفوظ ہیں، لیکن ہم یہاں موجود ہیں۔“
اس پر سی سی ایل کے پی آر او، آلوک گپتا نے بیان دیا: ”ویب سائٹ کو بحال کر دیا گیا ہے اور یہ اب معمول کے مطابق کام کر رہی ہے۔ کمپنی کا کوئی ڈیٹا ضائع یا تبدیل نہیں ہوا۔ فی الحال ہم صرف یہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک تکنیکی خرابی تھی۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہیکنگ ہوئی ہے یا نہیں۔“
پی ایس ایل کے بقیہ میچز کے ٹکٹوں کی فروخت آج سے شروع ہو گی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ویب سائٹ
پڑھیں:
امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔