سپریم کورٹ: ججز کا اختلافی نوٹ بنچ سربراہ کی منظوری سے ہی اپ لوڈ ہو گا
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ نے پالیسی کے طور پر یہ طے کیا ہے کہ اگر کوئی جج اختلافی نوٹ تحریر کرتا ہے تو اسے اسی بینچ کے سربراہ کی منظوری کے بعد ہی عدالت عظمیٰ کی ویب سائٹ پر پبلک کیا جائے گا۔ایکسپریس کو ایک ذمے دار ذریعہ نے بتایا کہ مخصوص نشستوں سے متعلق بارہ جولائی کے فیصلے کیخلاف نظر ثانی اپیلوں پر جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی کے اختلافی نوٹ آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان کی منظور ی کے بعد ہی سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ ہو سکیں گے۔ماضی میں کوئی جج اگر کیس کے آغاز پر ہی اختلاف کرکے بینچ سے اٹھ کر چلا جاتا تو اسکی اختلافی رائے اسی وقت سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر پبلک کردی جاتی تھی۔چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کے نام لکھا گیا خط منظر عام پر آیا جس میں جسٹس عائشہ ملک نے چیف جسٹس سے کہا آئی ڈپارٹمنٹ نے دونوں ججز کا اختلافی نوٹ اپلوڈ نہیں کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اختلافی نوٹ سپریم کورٹ
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔