پشاور: 36 ارب روپے کرپشن اسکینڈل، تحقیقات کیلئے پی اے سی کا اجلاس طلب
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
— فائل فوٹو
خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے اسکینڈل، 36 ارب روپے کی مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات کےلیے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا گیا ہے۔
پشاور میں ہونے والے اجلاس کی صدارت اسپیکر کے پی اسمبلی بابر سلیم سواتی کر رہے تھے۔
اسپیکر صوبائی اسمبلی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی تاریخ کا پہلا سب سے بڑا اسکینڈل ہے، صرف ایک محکمے میں تقریباً 40 ارب روپے کی بدعنوانی ہوئی ہے۔
پشاورخیبر پختونخوا کے سرکاری بینک اکاؤنٹس سے.
ان کا کہنا ہے کہ یہ پہلا اسکینڈل ہے جس میں کوئی سیاسی شخصیت ملوث نہیں بلکہ اسکینڈل میں اکاؤنٹنٹ جنرل آفس، محکمہ خزانہ اور سی اینڈ ڈبلیو ملوث پائے گئے ہیں۔
اسپیکر صوبائی اسمبلی کا یہ بھی کہنا ہے کہ بدعنوانی کے کیس میں نیب کی کارکردگی سب سے اچھی ہے، توقع ہے کہ بدعنوانی کیس میں 99 فیصد ری کوری ہوگی۔
اجلاس میں مشیرِ خزانہ مزمل اسلم، مشیرِ انسدادِ بدعنوانی مصدق عباسی اور وزیر بلدیات اکبر ایوب نے شرکت کی۔
اس کے علاوہ رکنِ اسمبلی احمد کنڈی، مشتاق غنی اور متعلقہ سرکاری افسران نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ارب روپے
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔