پاکستان اور اٹلی کا مضبوط دوطرفہ شراکت داری کے اعادے پر اتفاق، اوورسیز کمیونٹی پل کا کردار ادا کر رہی ہے: چیئرمین سینیٹ
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
اسلام آباد(ویب ڈیسک) چیئرمین سینیٹ پاکستان، سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان دیرینہ، گرمجوش اور خوشگوار تعلقات کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی شراکت داری باہمی احترام اور مسلسل بڑھتے تعاون پر قائم ہے۔ انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں پاکستان–اٹلی پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کے چیئرمین سینیٹر سرمد علی کی جانب سے اٹلی کی سفیر برائے پاکستان، مسز مارلینا آرمیلن، کے اعزاز میں دیے گئے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اٹلی، یورپی یونین میں پاکستان کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے، جس سے معاشی اور سیاسی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے اٹلی میں مقیم پاکستانی برادری کے کردار کو سراہا جو دونوں ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہی ہے۔
ریاستی اداروں کیخلاف ٹوئٹس کا کیس؛ فلک جاوید کا 5روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
اٹلی کی سفیر نے دونوں ملکوں کے ایوانوں میں قائم پارلیمانی فرینڈشپ گروپس کے کام کو سراہا اور اٹلی کی پارلیمان میں اٹلی–پاکستان فرینڈشپ گروپ کی چیئرپرسن سارا فیراری کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ سارا فیراری جلد ہی پاکستان کا دورہ کریں گی۔ سفیر نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ اور سینیٹ وفود نے گزشتہ برس اٹلی کے دو دورے کیے تھے اور یقین ظاہر کیا کہ اٹلی کی پارلیمان اور سینیٹ کے اراکین بھی خیرسگالی کے ایسے ہی دورے کر کے دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کریں گے۔
سینیٹر سرمد علی نے اپنے خطاب میں معزز سفیر کا شکریہ ادا کیا اور پارلیمانی وفود کے تبادلوں کو قریبی تعاون کے فروغ میں اہم قرار دیا۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ دونوں فرینڈشپ گروپس کے درمیان مسلسل روابط پارلیمانی سفارت کاری کو مضبوط بنائیں گے اور پاکستان–اٹلی شراکت داری کو مزید مستحکم کریں گے۔
نیب کا ذلفی بخاری کے حوالے سے بڑا فیصلہ
ظہرانے میں وفاقی وزیرِ قانون سینیٹر اعظم نظیر تارڑ، وزیرِ مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک، رکنِ قومی اسمبلی سید نوید قمر، سینیٹر شہادت اعوان اور چیئرمین سینیٹ کے مشیر و سفیر پارلیمانی اسپیکرز کانفرنس، مصباح کھر بھی شریک تھے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: چیئرمین سینیٹ انہوں نے اٹلی کی
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :