باجوڑ: وزیراعظم کے مشیر ورکن قومی اسمبلی مبارک زیب کے گھر کے قریب دھماکا
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
پشاور(نیوز ڈیسک)پاکستان کے قبائلی ضلع باجوڑ میں وزیراعظم کےمشیر و رکن قومی اسمبلی مبارک زیب کے گھر کے قریب دھماکا ہوا ہے۔
تفصیلات کےمطابق دھماکے سے رکن قومی اسمبلی مبارک زیب کے گھر کا گیٹ تباہ ہوگیا،خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، ایم این اے گھر پر موجود نہیں تھے۔
دھماکے کے بعد ایم این اے مبارک زیب نے اپنےبیان میں کہا میرے گھر کے مین گیٹ کو بم سے اڑایا گیا ہے
اللہ تعالیٰ کا شکر ہےکہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے،ان بزدلانہ کارروائیوں سے کوئی میری حوصلے پست نہیں کرسکتے۔ انشاء اللہ اپنے شہید بھائی کے ویژن کو جاری رکھوں گا۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 7 روپے تک کمی کا امکان
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔