پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں نے قائمہ کمیٹیوں سے استعفے دے دیے ہیں البتہ سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ نے تاحال یہ استعفے منظور نہیں کیے ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے کہ کسی طرح ارکان کو پھر سے کمیٹیوں میں لایا جائے تاکہ پارلیمانی کمیٹیوں کی کارروائی آگے بڑھائی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فلک جاوید کو کیوں گرفتار کیا گیا؟ وجہ سامنے آگئی

اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ کا مؤقف

ذرائع قومی اسمبلی کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی ارکان کے استعفے داخل دفتر کر رکھے ہیں، جبکہ دوسری جانب چیئرمین سینیٹ نے بھی فی الحال استعفے منظور نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور معاملے پر پارٹی قیادت سے مزید گفتگو کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ سینیٹ سیکریٹریٹ کو خصوصی ہدایت جاری کی گئی ہے کہ پی ٹی آئی کے سینیٹرز کو جو کمیٹیوں کے سربراہ ہیں ان کی مراعات جاری رکھی جائیں۔

کمیٹیوں کی کارروائی کی صورتحال

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمینوں کے مستعفی ہونے کے بعد تو کمیٹیوں کی کارروائی رک گئی ہے البتہ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ سینیٹ کمیٹیوں کی کارروائی جاری رہے گی، اپوزیشن چیئرمین کمیٹی کی عدم موجودگی میں دیگر اپوزیشن ارکان میں سے کوئی کمیٹی کی سربراہی کرے گا تاہم اجلاس جاری رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں:قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی ہونے کے بعد پی ٹی آئی سینیٹرز نے سرکاری گاڑیاں واپس کیوں نہیں کیں؟

مراعات سے متعلق انکشافات

دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے مستعفی چیئرمینوں کی اکثریت کا مراعات ابھی بھی لینے کا انکشاف ہوا ہے۔

پی ٹی آئی کے 8 چیئرمینوں میں سے صرف 3 نے سرکاری گاڑیاں اور اسٹاف واپس کیا ہے، ان میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین جنید اکبر، چیف وہپ عامر ڈوگر اور رائے حسن نواز شامل ہیں، جبکہ 5 سابق چیئرمینوں نے ابھی تک گاڑیاں اور اسٹاف واپس نہیں کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ان ارکان کا کہنا ہے کہ ابھی استعفے منظور نہیں ہوئے اس لیے گاڑیاں اور اسٹاف کیوں واپس کریں۔

کمیٹیوں کی سربراہی سے محرومی

واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں سے استعفے دینے کے باعث پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سمیت 5 کمیٹیوں کی سربراہی سے محروم ہو چکی ہے جبکہ سینیٹ کمیٹیوں سے استعفے کے باعث پی ٹی آئی 8 کمیٹیوں کی سربراہی سے محروم ہو چکی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسپیکر پی ٹی آئی پی ٹی آئی استعفے چیئرمین سینیٹ سینیٹ قائمہ کمیٹی قومی اسمبلی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسپیکر پی ٹی ا ئی پی ٹی ا ئی استعفے چیئرمین سینیٹ سینیٹ قائمہ کمیٹی قومی اسمبلی کمیٹیوں کی کارروائی چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹیوں قائمہ کمیٹی قومی اسمبلی کمیٹیوں سے کی سربراہی پی ٹی ا ئی پی ٹی آئی کیا ہے

پڑھیں:

وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا

وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائےگا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ بجٹ سے پہلے کوئی قانون سازی نہیں ہورہی۔

واضح رہے کہ قبل ازیں قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس 5 جون کو طلب کیا گیا تھا، تاہم آج قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس اچانک ملتوی کردیا گیا تھا، جس کے بعد واضح ہوگیا تھا کہ 5 جون کو بجٹ پیش نہیں ہوگا۔

قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ملتوی ہونے کے بعد میڈیا پر یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ حکومت بجٹ سے قبل کوئی اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے، تاہم طارق فضل چوہدری نے ایسی خبروں کی تردید کی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews تاریخ کا اعلان طارق فضل چوہدری وفاقی بجٹ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور