ڈونلڈ ٹرمپ مودی کا موازنہ شہباز شریف سے کر رہے ہیں، کانگریس
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
پون کھیڑا نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نہ صرف بھارت کا موازنہ پاکستان سے کر رہے ہیں بلکہ وہ نریندر مودی کا موازنہ شہباز شریف سے بھی کر رہے ہیں، کیا مودی کیلئے ایسا موازنہ قابل قبول ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کو "کامیابی سے ثالثی" کرنے کے اپنے دعوؤں کو دہرانے کے بعد کانگریس نے کہا کہ وہ نہ صرف دونوں ممالک کو جوڑ رہے ہیں بلکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا موازنہ اپنے پاکستانی ہم منصب شہباز شریف سے بھی کر رہے ہیں۔ کانگریس کے میڈیا اور پبلسٹی چیف پون کھیڑا نے سوشل میڈیا پر سعودی عرب میں ایک تقریب کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے تبصرے کا ایک کلپ شیئر کیا۔ انہوں نے کیپشن میں لکھا کہ امریکی صدر نے پھر کہا کہ میں نے تجارت کا استعمال ان (بھارت اور پاکستان) کے درمیان معاہدہ کرنے کے لئے کیا اور وہ راضی ہوگئے۔
پون کھیڑا نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نہ صرف بھارت کا موازنہ پاکستان سے کر رہے ہیں بلکہ وہ وزیراعظم نریندر مودی کا موازنہ شہباز شریف سے بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مودی کے لئے ایسا موازنہ قابل قبول ہے۔ پروفیشنلز کانگریس اور ڈیٹا اینالیٹکس کے چیئرمین پروین چکرورتی نے مودی حکومت پر طنز کیا اور کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی برابر ہیں، پاکستان اور ہندوستان برابر طاقتیں ہیں، یہ کون کہہ رہے ہیں، نریندر مودی کے "اچھے دوست" ڈونلڈ ٹرمپ۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کارتی چدمبرم نے بھی سعودی عرب میں ٹرمپ کے تبصرے پر مودی حکومت پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہانی نصاب کا حصہ نہیں تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مودی کا موازنہ شہباز شریف سے ڈونلڈ ٹرمپ کر رہے ہیں نے کہا کہ
پڑھیں:
روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔
بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ
دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔
افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں