نئی دہلی: بھارت کے ممتاز دفاعی تجزیہ کار سشانت سنگھ نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حالیہ پالیسیوں، جنگی حکمت عملی اور میڈیا کے کردار کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ بھارت کی روایتی پالیسی کو پسِ پشت ڈال کر مودی نے نہ صرف امریکہ کے دباؤ میں آکر کمزوری دکھائی بلکہ بھارتی خارجہ پالیسی کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا ہے۔

سشانت سنگھ کے مطابق: "نریندر مودی کا ٹرمپ کے دباؤ میں آنا انتہائی شرمناک ہے۔ بھارت کی ہمیشہ سے حکمت عملی رہی کہ پاکستان کے ساتھ کوئی بھی بحران عالمی فورمز پر نہ لے جایا جائے، لیکن مودی نے خود اس پالیسی کو دفن کر دیا۔"

انہوں نے مزید کہا: "مودی نے یہ تاثر دیا کہ بھارت کی اصل جنگ چین سے ہے اور پاکستان کوئی حیثیت نہیں رکھتا، لیکن آج وہی پاکستان پانچ بھارتی جنگی طیارے، جن میں تین رافیل بھی شامل ہیں، مار گرانے کا دعویٰ کر رہا ہے — اور بھارت اس کی تردید بھی نہیں کر سکا۔"

سشانت سنگھ نے کہا کہ گودی میڈیا نے سچ چھپایا، جھوٹ پھیلایا اور جو ادارے سچ لائے جیسے The Wire اور The Hindu، ان پر پابندیاں لگا دی گئیں۔

انہوں نے کہا "بین الاقوامی میڈیا نے سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے بھارتی طیاروں کی تباہی کی تصدیق کی، لیکن بھارت میں جھوٹ بولنے والوں کو ہیرو بنا دیا گیا۔"

ان کا کہنا تھا "پاکستانی میڈیا نے پیشہ ورانہ انداز میں حقائق پر مبنی رپورٹنگ کی جس کی وجہ سے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی۔ رافیل طیاروں کا چین کی مدد سے گرایا جانا جیو اسٹریٹیجک نقطۂ نظر سے انتہائی اہم ہے۔"

سشانت نے بھارتی سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں کے پھیلاؤ اور صحافیوں کی بدکرداری پر بھی شدید برہمی کا اظہار کیا۔


 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سشانت سنگھ

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا