کوٹری بیراج پر پانی میں اضافہ، دیہات پانی میں گھر گئے، دادو میں 3بچیاں ڈوب کر جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
ملتان(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔27 ستمبر ۔2025 )دریائے سندھ میں کوٹری بیراج پر پانی کی آمد میں اضا فے کا سلسلہ جاری ہے24 گھنٹے میں 12ہزار کیوسک کے اضافہ سے پانی کا بہاﺅ بڑھ کر 4لاکھ 20 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا،دادو میں 3 بچیاں سیلابی پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئیں فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق کوٹری بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب برقرار ہے، منگلا ڈیم بھرنے کے قریب ہے جبکہ باقی دریا معمول پر آگئے کوٹری بیراج پر سیلابی صورت حال سے ٹھٹہ میں کچے کے مزید کئی دیہات زیرآب آگئے جس کے نتیجے میں سینکڑوں ایکڑ پر چاول، کپاس، کیلے اور پپیتے سمیت کئی فصلیں شدید متاثر ہوگئیں.
(جاری ہے)
نوراجہ بھٹہ بند کے شگاف کی مرمت کا کام جاری ہے، ایم 5 موٹر وے ملتان سے جھانگڑا انٹر چینج تک 14ویں روز بھی بند رہی. سیلاب سے متاثر سوئی گیس پائپ لائن کی مرمت کا کام بھی جاری ہے، رحیم یار خان، بہاول نگر اور بہاول پور کا وسیع رقبہ متاثرہوگیا جس کے بعد نقصانات کے سروے کا آغاز کردیا گیا دوسری جانب دادو کے قریب کچے کے علاقے دودو کلہوڑو میں تین بچیاں سیلابی پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئیں پولیس کے مطابق تینوں بہنوں میں 15 سالہ عمان، 13 سالہ زبیرہ اور 12 سالہ حمیران شامل ہیں، مقامی غوطہ خوروں نے لاشیں نکال کر ورثا کے حوالے کر دیں حکام کا کہنا ہے کہ پہلے بارہ سالہ بچی ڈوبی پھر دو بہنوں نے بچانے کی کوشش میں جان گنوائی، تینوں بہنیں سیلابی پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہوئیں، لاشیں نکال لی گئیں.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کوٹری بیراج پر ڈوب کر جاں بحق سیلابی پانی پانی میں جاری ہے
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔