پاکستان نے سندھ طاس معاہدہ معطلی پر بھارت کو خط لکھ دیا، معاہدے کی معطلی کو غیر قانونی قرار
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
پاکستان نے سندھ طاس معاہدہ معطلی پر بھارت کو خط لکھ دیا، معاہدے کی معطلی کو غیر قانونی قرار WhatsAppFacebookTwitter 0 14 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)پاکستان نے سندھ طاس معاہدہ معطلی پر بھارت کو خط لکھ دیا، پاکستان کی جانب سے خط میں سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔
پاکستان نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر شدید ردعمل دیتے ہوئے باضابطہ طور پر احتجاجی خط بھارت کو ارسال کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، یہ خط سیکرٹری آبی وسائل سید علی مرتضی کی جانب سے بھارتی ہم منصب کو لکھا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے خط میں سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ معاہدے میں یکطرفہ معطلی کی کوئی شق موجود نہیں۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ معاہدے میں استعمال کیے گئے الفاظ میں بھی معطلی جیسا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔پاکستان نے اپنے خط میں واضح کیا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کو اس کی اصل شکل میں قائم و دائم تصور کرتا ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ چھیڑ چھاڑ کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسال 2024 سے اب تک 5ہزار سے زائد پاکستانی بھکاری بیرون ممالک سے ملک بدر سال 2024 سے اب تک 5ہزار سے زائد پاکستانی بھکاری بیرون ممالک سے ملک بدر دوبارہ حملے کا سوچا تو جو بچا ہے وہ بھی ختم کر دینگے، وزیراعظم کا مودی کو دو ٹوک پیغام چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت بورڈ اجلاس، سیکٹر سی تیرہ کے نظر ثانی شدہ لے آوٹ پلان کی منظوری بھارت پر حملے سے قبل آرمی چیف نے نماز فجر کی امامت کروائی، یہ لمحات رقت آمیز تھے، خواجہ آصف سی ایس ایس خصوصی امتحان 2023کے نتائج کا اعلان،کامیابی کا تناسب 3.20فیصد رہا آذربائیجان کے سفیر کی وزیراعظم سے ملاقات، بنیان مرصوص کی کامیابی پر مبارک باد دی
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: معاہدے کی معطلی کو غیر قانونی قرار سندھ طاس معاہدے پاکستان نے بھارت کو معطلی پر
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی