ریاستی اداروں کیخلاف نفرت انگیز مہم میں ملوث 5 ملزمان کیخلاف مقدمات درج
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
— فائل فوٹو
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے ریاستی اداروں کے خلاف مہم جوئی پر کارروائی کر کے 5 ملزمان کے خلاف مقدمات درج کرلیے۔
ترجمان کے مطابق مقدمے میں عادل راجہ، معید پیرزادہ، محمد عمر، نذیر بٹ اور احمد نورانی ملزمان نامزد ہیں۔ یہ نامزد ملزمان سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں کے خلاف گمراہ کن پراپیگنڈے میں ملوث ہیں۔
ملزمان پر حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران جھوٹا اور اشتعال انگیز مواد شیئر کرنے کا الزام ہے۔
اسلام آباد اسلام آباد ہائیکورٹ نے سوشل میڈیا پر.
مقدمے کے متن کے مطابق افواج پاکستان، ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹا اور اشتعال انگیز مواد شیئر کیا گیا۔ ملزمان مسلسل سوشل میڈیا پر جھوٹے اور گمراہ کن مواد کی تشہیر میں ملوث رہے۔
مقدمے کے مطابق یہ مواد ریاستی اداروں، خصوصاً افواج پاکستان اور اعلیٰ حکام کے خلاف نفرت انگیزی کا باعث ہے۔ سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا یہ مواد عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کا بھی باعث ہے۔
ملزمان نے عوام میں انتشار، بےچینی، ریاست کے خلاف بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کی۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ این سی سی آئی اے نے ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے قانونی کارروائی شروع کردی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ریاستی اداروں سوشل میڈیا پر مقدمات درج کے خلاف
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک